کاٹن مارکیٹ : ملز کی خریداری میں دلچسپی , جنرز کے پاس وافر سٹاک


مقامی کاٹن مارکیٹ میں عید الاضحی کی طویل تعطیلات کے بعد جمعہ کے روز جزوی طور پر کاروبار شروع ہوا، ضرورت مند ملز نے خریداری میں دلچسپی لی جبکہ جنرز نے عیدالاضحی کی تعطیلات سے قبل پھٹی کا وافر سٹاک کیا ہوا تھا، اس سے روئی کی گانٹھیں تیار کرنی شروع کر دی گئی تھیں، تعطیلات کی وجہ سے نئی پکنگ نہ ہوسکی جو ہفتہ سے دوبارہ شروع ہوگئی ہے ، پیر یا منگل سے دوبارہ صحیح کاروبار شروع ہونے کی توقع ہے فی الحال گزشتہ دنوں ہونے والی بارشوں سے کپاس کی کوالٹی خراب ہوئی ہے لیکن فصل کم ہونے کی کہیں سے اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوار 1 کروڑ 25 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے ۔صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 7650تا 7750روپے رہا، بہرحال موصولہ اطلاعات کے مطابق بارش والی پھٹی کا بھاؤ فی 40کلو 3000تا 3300روپے رہا،صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 7900تا 8000روپے رہا، پھٹی کا بھاؤ فی 40کلو 3500تا 3800روپے رہا جبکہ بلوچستان میں پھٹی کا بھاؤ 3500تا 3600روپے رہا۔ کاٹن بروکرزفورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ ہفتے کے دوران امریکہ کی نئی کاٹن کی سیل گزشتہ ہفتے کی نسبت 83فیصد اضافہ کیساتھ 3 لاکھ 29ہزار 100گانٹھیں رہی جبکہ ایکسپورٹ 2لاکھ 74ہزار 200گانٹھیں رہی،چین نے کوئی خریداری نہیں کی بلکہ 13ہزار 300گانٹھوں کے سودے منسوخ کئے جو آئندہ دنوں میں مندی کا سبب بن سکتا ہے۔ بھارت سے درآمدات پر پابندی مقامی کاٹن پر اثر انداز ہوسکتی ہے ۔