پنیری کی کاشت کا وقت :


پنجاب زرعی پیسٹ آرڈینینس 1959 کے تحت 20 مئی سے پہلے پنیری کی کاشت ممنوع ہے کیونکہ دھان کے تنے کی سنڈیاں موسم سرما کو مڈھوں میں سرمائی نیند سوکر گزار تی ہیں۔ روشنی کے پھندوں سے حاصل کردہ اعداد وشمار کے مطابق تنے کی سنڈیاں کو پروانے زیادہ تر مارچ کے آخر اور اپریل کے شروع میں نکلتے ہیں۔ اگر اس دوران دھان کی پنیری کاشت کی گئی ہوتو پروانے ان پرانڈے دے کر اپنی نسل کا آغاز کردیتے ہیں۔ لہذا دھان کے تمام کاشتکاوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں دھان کی پنیری 20 مئی سے پہلے کا شت نہ کریں۔ پنیری کاشت گوشوارہ نمبر 2 میں دیئے گئے وقت کے مطابق کریں۔

گوشوارہ نمبر 2: دھان کی منظور شدہ اقسام کیلئے پنیری کی کاشت اور منتقلی کا مناسب وقت

نمبر شمار نام قسم وقت کاشت وقت منتقلی
1 سپر باسمتی، پی ایس 2 ، باسمتی 385 ، باسمتی 2000 ، باسمتی 515، باسمتی 370، باسمتی پاک( کرنل باسمتی )، پی کے 386، باسمتی198 (ساہیوال، اوکاڑہ اور ملحقہ علاقوں کیلئے) یکم جون تا 20 جون (18 جیٹھ تا6 ہاڑ) یکم جولائی تا20 جولائی (17 ہاڑ تا4 ساون)
2 شاہین باسمتی 15 جون تا 30 جون (یکم ہاڑ تا 16 ہاڑ) 15 جولائی تا 31 جولائی (31 ہاڑ تا 15 ساون)
3 کےایس 282، نیاب اری 9 ، اری 6، کے ایس کے 133 ، کےایس کے 434 ، نیاب 2013 20 مئی تا 7 جون (6 جیٹھ تا 24 جیٹھ 20 جون تا 7 جولائی (6 ہاڑ تا 23 ہاڑ)
4 وائے 26،پرائیڈ 1،شہنشاہ 2، پی ایچ بی 71 ، آرائز سوئفٹ 20 مئی تا 15 جون (جیٹھ تا یکم ہاڑ) پنیری کی عمر 25 تا 30 دن

زہر لگا کر بیج کا شت کرنا :

دھان کی فصل کو بکائنی اور پتوں کے بھورے دھبے جیسی بیماریوں سے بچانے کےلئے پھپھوندی کش زہر کا شت سے دو ہفتے قبل زرعی توسیعی کارکن کے مشورہ سے بیج کو لگا ئیں۔ یہ طریقہ خشک بیج کی کاشت والے علاقے کے لئے ہے۔ جن علاقوں میں کدو کے ذریعے پنیری کاشت کی جاتی ہے۔ وہاں بیج کو دوائی ملے پانی کے محلول میں (بحساب 2 تا2.5 گرام زہر فی لٹر پانی ) 24 گھنٹے بھگوئیں۔ اس کے بعد بیج کو نکال کر سایہ دار جگہ پر رکھ کر ڈبودیں۔