بدلتے موسمی حالات میں کپاس کی کاشت


ملکی معیشت میں کپاس کی فصل کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان دنیا بھر میں کپاس پیدا کرنے والا ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے اور کپاس کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 80 فیصد صوبہ پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔ ماضی میں پاکستان کو کپاس کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے میں مسائل کا سامنا رہا ہے اب ہمارے کاشتکاروں اور زرعی سائنسدانوں کی انتھک محنت کے نتیجہ میں صوبہ پنجاب میں کپاس کی پیداور میں قابل لحاظ اضافہ ہوا ہے -کپاس کی فصل ہماری کاشتکاروں کی معاشی خوشحالی میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس لیے ہمارے کاشتکار کپاس کی کاشت مین خصوصی دلچسپی لیتے ہیں ۔کپاس کی کی فصل ہماری ملک کی زراعت مین بنیادی حیثیت رکھتی ہے پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار اسی فصل پر ہے پاکستانی کپاس اوراس سے تیار کردہ ٹیکسٹائل مصنوعات اپنی بہترین کوالٹی کی بدولت ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہیں ۔کپاس کا پودا نازک اور حساس ہونے کی وجہ سے اس کی نگہداشت انتہائی توجہ طلب ہے ۔کپاس کی اچھی اور بہتر پیداور حاصل کرنے کے لیے مختلف عوامل اور مراحل اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ کپاس کا پودا بڑھوتری اور پھل لگنے کے معاملے میں موسمی تغیرات کے تناظر میں نازک اور حساس ثابت ہوتا ہوا ہے۔ پاکستان میں سکڑتے ہوئے آبی وسائل تیزی سے کم ہو رہے ہیں ۔ موسمی تغیرات کی وجہ سے ملک میں بارشوں کا وقت اور انداز بدل رہا ہے۔ جدید زرعی تحقیق کے مطابق موسمی تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں گرمی کے دورانیہ میں اضافہ ،آبی ذخائر میں کمی جبکہ بارشی نظام بھی تبدیل ہورہا ہے ۔پاکستان کے زرعی سائنس دانوں اور ماہرین کو بدلتے ہوئے موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر جامع حکمت عملی کی تیاری کے لیے کپاس کی کاشت لئے تحقیقی سرگرمیوں کو تیز کرنا ہوگا ۔ رزعی ماہرین اور کاشتکاروں کو ان بدلتے ہوئے موسمی حالات میں کپاس کی بہتر دیکھ بھال کے لیے مشترکہ کاوشیں اور حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی تا کہ فی ایکڑ پیداور میں اضافہ کو ممکن بنایا جاسکے ۔ یہ بات حوصلا افزا ہے کہ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ کے زرعی ماہرین نے کپاس کی ایسی اقسام وضع کرلی ہیں جوزیادہ درجہ حرارت اور خشک سالی میں بھی بھرپور پیداوار دیتی ہے اور موسمی تبدیلیوں کا بہتر انداز میں مقابلہ کرسکتی ہیں مثلاً حال ہی میں کپاس کی بی ٹی قسم ایف ایچ 326 – پنجاب سیڈ کائونسل سے عام کاشت کے لیے منظور ہوئی ہے جو کہ زیادہ گرمی میں اور کم پانی کے باوجود بھی بھرپور پیدوار دیتی ہے۔ اسی طرح بدلتے ہوئے موسمی حالات میں آبپاشی کے جدید طریقوں کو بھی فروغ دیا جارہا ہے جن کی ذریعے پانی کی بچت اور کم پانی سے زیادہ پیداوار کا حصو ل ممکن ہورہا ہے۔ اس مضمون میں بدلتے ہوئے موسمی حالات کے تناظر میں کپاس کی کاشت کے سلسلے میں درج ذیل میں تجاویز دی گئی ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر کاشتکار کپاس کی بہتر پیداوار کے حصول کے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ کپاس کی کاشت سے قبل جننگ ویسٹ ختم کردیا جائے کیونکہ کپاس کی بہتر پیداوار کے لیے آف سیزن مینجمنٹ فارمولا کے تحت جننگ ویسٹ موثر انداز میں تلف کرنے سے کپاس کی آنےوالی فصل کو سفید مکھی اور گلابی سنڈی کے حملے سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے کپاس کی گلابی سنڈی نہایت خطرناک کیڑا ہے جو ننھے شگوفوں اور ڈوڈیوں پر حملہ آور ہوکر پھول کے نر اور مادہ دونوں کو کھاتا ہے ۔ گلابی سنڈی کے حملہ سے متاثر ٹینڈے بمشکل کھلتے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی روئی کا ریشہ کمزور اور بد رنگ ہوتا ہے ۔ حالیہ سالوں کے دوران گرمی کی شدت اور دورانیہ میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ بعض اوقات اپریل اور مئی میں درجہ حرارت 47 سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے جس سے کپاس کے پودے کی بڑھوتری بری طرح متاثر ہوتی ہے اور زیادہ درجہ حرارت کپاس میں پھول گڈی گرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ شدید حرارتی لہر کی وقوع پذیری موسمی تغیرات کا ایک اہم پہلو ہے ۔ ایسی صورت میں شدید گرمی کی وجہ سے ڈرل سے کاشت کپاس کی فصل اُگاؤ کے دوران لوُ لگنے کافی حد تک متاثر ہوتی ہے ۔ شدید گرمی اور لوُ سے بچنے کے لیے زمین میں کو ٹھنڈا کرنے کےلیے دوہری راونی کرنے کے بعد کپاس کی کاشت کی جائے تو نہ صرف کپاس کا اُگاؤ بہتر ہوتا ہے بلکہ لوُ کی وجہ سے پودوں کی کے مرنے کی شرح بھی کم ہوجاتی ہے ۔موسمی تغیرات کے تناظر میں پودوں کو گرمی سے بچانے کے لیے کپاس کو پٹریوں پر کاشت کرنے کی سفارشی کی جاتی ہے ۔کیونکہ اس طریقہ کاشت میں بُجائی کے وقت ہی آبپاشی کردی جاتی ہے۔جس سے کپاس کا اُگاؤ بہتر ہوتا ہے اور پودوں کے مرنے کے امکانات بھی کم ہوجاتے ہیں ۔ اس طریقہ کاشت میں بیج اور پانی کی بچت کے علاوہ فصل کی چھدرائی کر کے پودوں کی مطلوبہ تعداد اور فاصلہ حسب منشا برقرار رکھا جاسکتا ہے نرم زمین میں آکسیجن کی موجودگی کی وجہ سے خوراک اور پانی حاصل کرنے میں جڑوں کی کارکردگی لمبے عرصہ تک بہتر رہتی ہے ۔ کپاس کی معیار بہتر اور مجموعی پیداوار بھی زیادہ ہوتی ہے ۔ پٹڑیوں پر کاشت فصل میں کیڑوں بیماریوں اور جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے سپرے کا عمل آسانی سے سرانجام دیا جاسکتا ہے اور بارش سے کرنڈ کا خطرہ بھی 90فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ بدلتے ہوئے موسم حالات میں درجہ حرارات بڑھنے ،بارشیں کم ہونے اور حبس کے نتیجہ میں پھول گڈی زیادہ تعداد میں گر جاتی ہے۔ مزید برآں ٹینڈ ے کا سائز اور ٹینڈہ بننے کا دورانیہ بھی کم ہوجاتا ہے ۔ان حالات میں پودوں کا باہمی فاصلہ زیادہ کرنے کی سفارش کی جاتی ہے پودوں کی تعداد کے تعین کے وقت پودوں کی ساخت اور کپاس کی قسم کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔ اپریل کے آخر میں کپاس کی کم دورانیہ اور گرمی برداشت کرنےوالی اقسام کاشت کی جائیں ۔ پودوں پر پھول گڈی لگنے سے پہلے جڑی بوٹیوں کی تلفی سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ اب موسمی تغیرات کی وجہ سے کپاس کی فصل میں نئے جڑی بوٹیاں بھی اُگنا شروع ہوچکی ہیں ۔ ان نئی فروغ پانے والی جڑی بوٹیوں کی تلفی کےلیے کاشتکار محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کی مشاورت سے سفارش کردہ نئی کیمسڑی کی حامل زہریں سپرے کریں ۔ ناموافق موسمی حالات سے بچنے کے لیے ایک وقت میں کپاس کی ایک سے زیادہ اقسام کے علاوہ 10 فیصد رقبہ پر نان بی ٹی اقسام بھی کاشت کی جائیں تا کہ ناموافق حالات میں کسی ایک قسم کو ہونے والے نقصان کا ازالہ ہوسکے ۔ اقسام کا چناؤ کر تے وقت کم دورانیہ اور کم پانی میں پیداور دینے والی اقسام کا چناؤ علاقے سے مناسبت سے کریں۔ شر ح بیج 6 سے 10 کلوگرام فی ایکڑ کھیلیوں پر کاشت کی صورت میں 2 سے 3 بیج فی چوپا اور ڈرل سے کاشت کی صورت میں 8 سے 12 کلو گرام فی ایکڑ اترا ہوا بیج استعمال کریں تا کہ زیادہ پیداوار کے حصول کےلیے پودوں کی فی ایکڑ مطلوبہ تعداد حاصل ہوسکے ۔بیج کو کاشت سے پہلے مناسب زہر ضرور لگائیں جس سے فصل ابتدا میں ایک ما ہ تک رس چوسنے والے کیڑوں سے محفوظ رہتی ہے ۔ پودے صحت مند رہتے ہیں اور پودوں میں ناموافق موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی بڑ ھ جاتی ہے ۔ کپاس کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کےلیے قطاروں میں پودوں کا آپس میں درمیانی فاصلہ برقرار رکھنا بہت ضروری ہے ۔ فاصلہ چھدرائی کے ذریعے ضرورت سے زیادہ پودوں کو نکال کر ہی پورا کیا جاسکتا ہے ۔چھدرائی کے عمل بُوائی کے 20 سے 25 دن کے دوران یا پہلے پانی سے خشک گوڈی کے ساتھ مکمل کیا جائے اور کپاس کے مرکزی علاقہ جات میں ایک ایکڑ میں پودوں کی تعداد 23000 سے 35000 ہو پودے سے پودے کا فاصلہ 6 سے 9 انچ رکھا جائے۔ دنیا میں نامیاتی طریقہ کاشت سے پیدا کی گئی کپاس کی طلب میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور اس کی قیمت بھی زیادہ ملتی ہے پاکستان میں بھی اس طریقہ کاشت کی حوصلاافزائی کرنی چاہئے تا کہ موسمی تغیرات کے اثر کو کم اور زیادہ پیداوار کے حصول کو ممکن بنایا جا سکے ۔ موسمی تغیرات میں کپاس کی مناسب دیکھ بھال ، کسی بھی مسئلہ کی صورت میں فوری فیصلہ سازی اور پھر اس پر عمل درآمد بہت اہم ہیں ۔ کھادوں کا چناؤ ، مقدار اور وقت استعمال ،آبپاشی کا وقت اور مقدار ، پانی اور کھادوں کے ضیاع کو روکنا اور ضرر رساں کیڑوں سے بچاؤ کے بروقت اقدامات ان ناموافق موسمی حالات کے اثرات کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے ۔ اس طرح کپاس کی وقت کاشت میں ردوبدل سے بھی اس ضمن میں مدد لی جاسکتی ہے۔