برسیم کی بیماری اور ان کا علاج


جڑکا اکھیڑا یا گلاو :

یہ بیماری ایک پھپھوند سے لگتی ہے۔ اس بیماری کے حملہ کے بعد اچانک ہی پودا مرجھا جاتا ہے۔ اس بیماری سے متاثرہ پودے آسانی سے زمین سے کھینچنے پر نکلے جاسکتے ہیں۔ متاثرہ پودوں کی چھال گلی ہوئی اور اتری ہوئی نظر آتی ہے۔ فصل کو بیماری سے بچانے کے لئے جس کھیت میں پچھلے سال گلاو کی بیماری لگی ہو تین سے چار سال وہاں برسیم کا شت نہ کریں۔ تو بہت حد تک بیماری کم ہوجاتی ہے۔ یہ بیماری دیسی اقسام کی بجائے مصری بیج (مسقاوی)پر زیادہ حملہ آور ہوتی ہے۔ بیج کو مقامی زرعی توسیعی عملہ کے مشورہ سے مناسب دوائی لگا کر کاشت کریں۔

تنے کا گلاو :

یہ بیماری ایک پھپھوند سے لگتی ہے ۔اس بیماری کے حملہ کی صورت میں پودے کے تنے کے نچلے حصہ پر دھنسے ہوئے دھبے بن جاتے ہیں ۔ اس متاثرہ جگہ سے تنا گل جاتاہے۔ اور سیاہ رنگ کا ہوجاتاہے۔ پودے مرجھا کر سوکھ جاتے ہیں ۔ فصل کو بیماری سے بچانے کےلئے کھیتوں کو ہموار رکھیں تاکہ نشیبی جگہوں پر پانی کھڑانہ ہونے پائے۔ پانی زیادہ لگانے سے بھی اجتناب کریں۔ جس کھیت میں یہ بیماری پائی جائے اس میں کٹائی کے بعد مقامی توسیع عملہ کے مشورہ سے مناسب زہر کا استعمال کریں۔ اور متاثرہ کھیت میں تین تا چار سال برسیم کاشت کرنےسے اجتناب کریں۔

برسیم کا سٹرنا :

یہ بیماری ایک پھپھوند سے لگتی ہے۔ اس بیماری سے سفید روئی کے گالوں کی طرح کی پھپھوند زمین پر اور پودوں پر لگی نظر آتی ہے ۔ جس سے پودے گلنا شروع ہوجاتے ہیں اور آخر کار مرجھا جاتے ہیں۔ یہ بیماری کھیت میں ٹکڑیوں کی صورت میں نظر آتی ہے۔ اس بیماری کا حملہ عموماً جنوری ،فروری میں دیکھا گیا ہے۔ علاج کی خاطر زمین کی تیاری کے وقت گہراہل چلایا جائے ۔ زمین کو ہموار رکھا جائے اور زیادہ پانی سے اجتناب کیا جائے۔ فصل کو کٹائی کے بعد مقامی توسیع عملہ کے مشورہ سے مناسب زہرکا سپرے کریں۔

انتھراکنوز :

یہ بیماری ایک پھپھوند سے لگتی ہے۔ اس بیماری کے حملہ کی صورت میں پتوں اور تنوں پر گہرے بھورے بیضوی شکل کے دھبے بنتے ہیں ۔ بیماری کے شدید حملہ کی صور ت میں تنے گل جاتےہیں اور پودے مرجھا جاتے ہیں۔ فصل کی کٹائی کے بعد مقامی توسیع عملہ کے مشورہ سے مناسب زہر کا سپرے کریں۔

برسیم کا بیج پیدا کرنا :

چار ے کی فصل کی حیثیت سے برسیم کا واحد مسئلہ اس کا صحت مند ، صاف ستھرا اور جڑی بوٹیوں سے پاک بیج تیار کرناہے۔ اس کا چارہ جس قدر اعلی او ر مقبول ہے اس کے خالص اور صاف بیج کی دستیابی اتنی ہی مشکل ہے۔ جس کی وجہ سے کاشتکاروں کو برسیم کا بیج حاصل کرنے کے لئے کافی دوڑ دھوپ کرنی پڑتی ہے۔ اس کے باوجود بہت سے زمیندار اچھا بیج حاصل نہیں کرپاتے بعض زمیندار اپنا بیج خود بھی پیداکرلیتے ہیں ۔ لیکن بیج کی زیادہ تر ضرورت مارکیٹ سے خریدے گئے درآمدشدہ، ملاوٹ شدہ، غیر تسلی بخش اور غیر معیاری بیج سے پوری کی جاتی ہے۔ جس میں شفتل ، کاسنی ، ریواڑی، پیازی اور کمزور بیج بکثرت ہوتےہیں۔ اس ملاوٹ سے شدہ بیج سے نہ صرف چارے کی افادیت و غذائیت متاثر ہوتی ہے۔ بلکہ سبز چارہ کی کم پیداوار کے ساتھ ساتھ آئندہ بیج بھی ناقص پیدا ہوتاہے۔ اس لئے جس قدر ممکن ہو ہوائی سے پہلے تمام کثافتیں نکال کر ہی بیج کو کاشت کرنا چاہیے۔ برسیم کا معیاری بیج حاصل کرنے کے لئے برسیم کی منظور شدہ اقسام سے سبز چارہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ انکا بیج بھی پیدا کرنا چاہئے۔مختلف تجربات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذکیا گیاہے۔ کہ سبزچارے والی اگیتی اقسام سے نومبر کے آخر سے مارچ کے آخر تک سبز چارے کی تین چار کٹائیاں لے کر بیج کے لئے اس فصل کو مارچ کے آخر یا اپریل کے پہلے ہفتے میں بیج بننے اور پکنے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔ پچھیتی اقسام باالترتیب سپر برسیم لیٹ فیصل آباد کو اپریل کے پہلے ہفتہ اور انمو ل کو اپریل کو دوسرے ہفتہ میں بیج بننے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔ پھول آنے اور زرپاشی کے عمل کے دوران اس کو حسب ضرورت پانی لگانا ضروری ہے۔ اس طرح دانہ موٹا اور صحت مند بیج کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ اگربیج والے کھیت میں جڑی بوٹیوں کے پودے نظر آئیں تو انہیں درانتی کی نوک سے نکالتے رہنا چاہئے تاکہ آئندہ خالص بیج کے حصول کو یقینی بنا یا جاسکے۔ اگر زیادہ رقبہ پر فصل کاشت کی گئی فصل سے بیج لینا مقصود ہو تو کھیت کے قریب شہد کی مکھیوں کے چھتے (ڈبے ) رکھنے سے زرپاشی کا عمل بہتر ہوگا اور بیج کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کا سبب ہوگا بہترین سازگار موسمی حالات میں بیج کی پیداوار 10 من فی ایکڑ تک لی جاسکتی ہے۔

بیج والی فصل کی کٹائی ، گہائی اور سنبھال :

برسیم کی بیج والی فصل کو پوری طرح پکنے پر کاٹنا چاہئے کیونکہ سبز ڈوڈیوں سے زرد کچے بیج حاصل ہوتے ہیں۔ کٹائی صبح کے وقت کرنی چاہئے تاکہ پکی ہوئی ڈوڈیاں کھیت میں زیادہ نہ گریں اور بیج کا کم سے کم نقصان ہو اگر برسیم کی فصل زیادہ رقبہ پر کاشت کی گئی ہو تو بہتر ہے کہ کٹائی کمبائن ہارویسٹر سے کرائی جائے بصورت دیگر برسیم کی پیکی ہوئی فصل کو کاٹ کا کھیت ہی میں بڑے بڑے ڈھیر لگادیئے جائیں۔ اور ان کو خشک ہونے پر تھریشر سے گہائی کرلیں۔ اور بیج کوہودار اور خشک سٹور میں سنبھال کر رکھا جائے۔

(2) لوسرن کی کاشت

یہ دوامی نوعیت کا ایک پھلی دا ر چارہ ہے۔ جس میں لحمیات ، حیاتین، کیلشیم اور فاسفورس وافر مقدارمیں پائے جاتے ہیں۔ یہ فصل سارا سال سبز چارہ فراہم کرتی ہے۔ اور ایک دفعہ کاشت کرکے کئی سالوں تک سبز چارہ حاصل کیاجاسکتاہے۔ برسیم کی طرح چارے کی یہ فصل بھی ہو ا سے نائٹروجن جمع کرکے زمین کی زرخیزی بحال رکھتی ہے۔ ربیع کے دیگر چارہ جات برسیم اور جئی کی نسبت یہ فصل سخت جان بھی ہے اور شدید سردی ، کورا اور سخت گرمی کو بھی برداشت کرسکتی ہے۔ باربراری والے جانوروں کیلئے یہ چارہ خصوصی اہمیت رکھتاہے۔ دیگر چاروں کےساتھ ملا کر دودھ دینے والے اور گوشت والے مویشیوں کے لئے بھی مفید ہے اپنی بے مثال خوبیوں کی وجہ سے لوسرن کو چارہ جات کی ملکہ بھی کہا جاتاہے۔ ربیع کے چاروں کے کل رقبے کے 9 فیصد رقبہ پو لوسرن کاشت کیا جاتاہے۔

پیداوار اور اقسام :

سال بھر میں چار ے کی تمام کٹائیوں سے اوسطً تقریبا ایک ہزار من فی ایکڑ سبز چارہ حاصل کیا جاسکتاہے۔ جبکہ موافق موسمی حالات میں بیج کی پیداوار 3 تا5 من فی ایکڑ لی جاسکتی ہے۔ ادارہ تحقیقات چارہ جات سرگودھا کی منظور شدہ قسم سرگودھا لوسرن 2002 سبز چارے اور بیج کی بھر پور پیداوار کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آب وہوا :

یہ فصل ہر قسم کی آب وہوا سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس فصل کے لئے نیم خشک علاقے بہت موزوں ہوتے ہیں ۔ اورایسے علاقوں میں یہ فصل ہر قسم کی زمین پر کامیابی سے کاشت کی جاسکتی ہے۔ خشک علاقوں میں لوسرن کی آب پاش فصل نہایت کامیاب رہتی ہے۔ مرطوب آب وہوا اس فصل کے لئے مفید نہیں۔ زیادہ بارش والے علاقوں میں لوسرن کی فصل اپنی دوامی حیثیت برقرار نہیں رکھ سکتی کیونکہ وہاں جڑی بوٹیوں اور گھاس کی افراط ہوجاتی ہے۔ یہ پودا دھوپ کو پسند کرتاہے۔ اس لئے سردیوں میں بارش اور بادل اس کے لئے نقصان دہ ہوتےہیں۔

زمین اور اسکی تیاری :

لوسرن کی فصل کے لئے بہتر نکاس والی زرخیز میرازمین جس میں کیلشیم وافر مقدار میں موجود ہو موزوں ترین ہے۔ سیم زدہ اور کلر والی زمین اس کے لئے مناسب نہیں۔ لوسرن کی فصل چونکہ 6 سے 7 سال تک چارہ دیتی رہتی ہے۔ اس لئے اس کی تیاری پر بھر پور توجہ دی جاتی ہے۔ ایک دفعہ مٹی پلٹنے والا ہل چلائیں چار پانچ دفعہ ہل سہاگہ چلا کر زمین کو نرم اور بھر بھرا کرلیں۔ کھیت کا ہموار ہونا ضروری ہے۔

وقت کاشت :

لوسرن کی بجائی کے لئے بہترین وقت 15 اکتوبر سے 15 نومبر تک ہے ۔ تاہم اگیتی بوائی سے زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اور فصل کی نشوونما پچھیتی بوائی کے مقابلے میں زیاد ہ ہوتی ہے۔

لوسرن کا ٹیکہ :

بیج کو جراثیمی ٹیکہ لگا کر کاشت کرنے سے پودے کی ہوا سے نائٹروجن حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہےاور زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ نصف لٹر پانی میں سو گرام چینی کے محلول میں جراثیمی پیکٹ ڈال کر آٹھ کلو گرام لوسرن کےبیج کے ساتھ اچھی طرح ملائیں۔ بیج کو ٹیکہ لگانے کے بعد سایہ میں خشک کرکے جلدی کاشت کریں۔ کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکہ کی افادیت بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ اگر کہیں ایسا ٹیکہ موجود نہ ہو اور اگر کسی کھیت میں لوسرن کی کاشت پہلی بار کی جارہی ہو تو دو من فی ایکڑ لوسرن کی مفید جراثیم والی مٹی اس کھیت سے لا کر ڈال دی جائے۔ جہاں پچھلے سال لوسرن کاشت کیا گیا تھا اس کے علاوہ یا د رہے کہ یہ مٹی بیمار شدہ کھتی سے نہ لی گئی ہو۔ شعبہ بیکڑیالوجی زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد، نیاب فیصل آباد اور قومی زرعی تحقیقاتی ادارہ اسلام آباد سے برسیم کے بیج کاٹیکہ حال کرکے محکمانہ ہدایات کے بطابق استعمال کریں۔

شرح بیج :

خالص، صاف ستھرا اور صحت مند بیج بذریعہ ڈرل یا کیرا 4 تا6 کلو گرام فی ایکڑ بجائی کے لئے کافی ہے۔ ناقص بیج کا رنگ سرخی مائل بھورا جبکہ معیاری بیج کا رنگ رزد ہوتاہے۔

طریقہ کاشت :

چارے کی بہتر پیداوار اور خالص بیج کے حصول اور جڑی بوٹیوں کی آسان تلفی کے لئے بہترین تیار شدہ وتر زمین میں قطاروں میں بذریعہ سنگل روکاٹن ڈرل یا سمال سیڈ رڈرل کاشت کریں۔ بیج زیادہ گہرا نہیں جانا چاہئے ورنہ اگاو متاثرہوگا۔لائنوں کا فاصلہ ایک تا ڈیڑھ فٹ ہوناچاہئے۔

کھادوں کا استعمال :

لوسرن کی فصل کے لئے کھادکی مقدار کا صحیح تعین کرنے کے لئے زمین کا تجزیہ کوانا ضروری ہے۔ زمین کے تجزیہ کی عدم موجودگی میں مندرجہ ذیل سفارشات پر عمل کرکے بہتر پیداوار لی جاسکتی ہے۔ چارہ لوسرن کی کاشت کے لئے تمام کھادیں بوائی کے وقت استعمال کریں۔ جس زمین میں پہلی دفعہ لوسرن کی کاشت کی جائے وہاں اگر بیج کو جراثیمی ٹیکہ لگایا جائے تو پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔

گوشوارہ نمبر 3 :

غذائی عناصر کلو گرام فی ایکڑ کھاد کی مقدار بوریوں فی ایکڑ
نائٹروجن فاسفورس
23 35 دیڑھ بوری ڈی اے پی+آدھی بوری یوریا یا دو بوری نائٹروفاس+ڈیڑھ بوری ایس ایس پی ( 18 فیصد) یا چار بوری سنگل سپر فاسفیٹ+ ایک بوری یوریا یا ایک بوری نائٹرفاس + ایک بوری کیلشیم امونیم نائٹریٹ +تین بوری ایس ایس پی (18 فیصد)

نوٹ : تمام کھادیں بوائی کے وقت استعمال کریں۔ اس کے بعد ہرسال اکتوبر میں ایک تا ڈیڑھ بوری ڈی اے پی استعمال کریں۔

آبپاشی :

فصل کو پہلا پانی بوائی کے تین ہفتہ بعد اور پھر باقی پانی حسب ضرورت دیں ۔ اس فصل کی جڑی زمین میں دور تک گہری چلی جاتی ہیں۔ اور اس طرح یہ فصل پانی کی کمی کو اچھی طرح برداشت کر لیتی ہے۔ برسات کے دنوں میں اسے پانی کی بلکل ضرورت نہیں رہتی۔ عام طور پر اسے فی کٹائی ایک پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور نسبتاً خشک علاقوں میں دوپانی درکارہیں۔ موسم گرما میں چارے کی فصل کو پانی ہر 15 تا 20 دن کےبعد لگانا چاہیے۔

جڑی بوٹیوں کی تلفی :

لوسرن کی فصل چونکہ سال ہا سال چلتی ہے۔ لہٰذا اس میں گھاس اور جڑی بوٹیاں اُگنے کی صورت میں فصل کو بیج کےلئے چوڑنے سے پہلے قطاروں میں کاشتہ خراب فصل میں ہل چلادینا چاہیے۔ لوسرن کی بیج والی فصل کو کھبل اور اکاش بیج نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کی تلفی کے لئے محکمہ زراعت کے توسیع و پیسٹ وارننگ کے عملہ کے مشورہ سے مناسب زہر کا سپرے کریں تاکہ خالص معیاری اور جڑی بوٹیوں سے پاک بیج کے حصول کو یقینی بنایا جاسکے۔

کیڑے اور ان کا تدارک :

چارے کی فصل پر کسی سپرے کی سفارش نہیں کی جاتی بلکہ فصل کو صرف جلدی کاٹنے کی خکمت عملی اپنانی چاہیے ۔ جبکہ بیج کے لئے رکھی گئی فصل پر کیڑوں کے حملہ کی صور ت میں ان کے کنڑول کےلیے گوشوارہ نمبر 2 ملاحظہ فرمائیں۔