ربیع کے چارے 17-2016


اہمیت و تعارف :

پنجاب میں عام طور پر جانوروں کے لئے سبز چارے کی قلت ہے۔ جب کہ مویشیوں کی نشوونما کے لئے سبز چارے کی اتنی ہی ضرورت و اہمیت ہے جتنی کہ انسانی زندگی کے لئے اچھی غذاکی۔ پنجا ب میں جانوروں کی تعداد سات کروڑ سے زائد ہے۔ جن میں سالانہ مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ جس کے لئے چارے کی موجودہ فراہمی برقرار رکھنے کے لئے چارے کی پیداوار میں اضافہ ضروری ہے۔ پاکستان میں چارہ جات کے کل رقبے کا 80 فیصد پنجاب میں کاشت ہوتاہے۔ جہاں تقریباً اڑتالیس لاکھ ایکڑ رقبہ پر چارہ جات کاشت ہوتے ہیں۔جس میں سے ربیع کے چارے کا رقبہ تقریباً ساڑھے 22 لاکھ ایکڑ ہے۔ پنجاب میں سبز چارے کی کل پیداوار 110 کروڑ من حاصل ہورہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2020 میں ہماری آبادی 217 ملین ہوجائے گی۔ جسے موجودہ ڈیری مصنوعات کی پیداوار سے زیادہ ضرورت ہوگی۔ مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی دودھ اور گوشت کی ضرورت پوری کرنے کےلئے ہمیں چارے کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہوگا۔ چارے کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی کی سب سے بڑی وجہ کسانوں تک نئی اقسام کا بیج اور جدید فنی مہارتوں کا نہ پہنچناہے۔ جانوروں کے لئے ہمارے ہاں سب سے بڑی غذا سبز چارہ ہے ۔ غذائی اور نقد آور فصلوں کو مد نظر رکھتے ہوئے چارے کی پیداوار میں اضافہ کے لئے اہم رقبہ میں اضافہ نہیں کر سکتے ۔ اس لئے اس بات کی اشد ضرورت ہے۔ کہ ہم ایسی منصوبہ بندی کریں ۔ جس سے چارہ جات کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکے۔ تجربات سے یہ ثابت ہے کہ اگر ہم زمین کا صحیح انتخاب و تیاری ۔ اچھا بیج۔ مناسب اور متناسب کھادوں کا استعمال ۔ بروقت کاشت۔ آبپاشی۔ برداشت۔ دیگر زرعی عوامل اور ماہرین کی سفارشات پر عمل کریں۔ توچارے کی فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں دو سے تین گنا اضافہ کرسکتے ہیں۔ لہٰذا چارے کی موجودہ کمی کو پورا کرنے اور جانوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو چارہ مہیا کرنے کےلئے ہمارے ہاں چارے کی فصلوں کی پیداوار مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ رقبہ کے لحاظ سے ربیع کے چارہ جات میں سب سے اہم فصلات بالتر تیب برسیم، لوسرن ، جئی اور رائی گھاس ہیں۔

گوشوارہ نمبر 1: پنجاب میں ربیع کے چارہ جات کا رقبہ ، پیداوار اور اوسط پیداوار

سال رقبہ کل پیداوار اوسط پیداوار
ہزار ہیکڑ ہزار ایکڑ ہزارٹن کلو گرام فی ہیکڑ من فی ایکڑ
2011-2010 959.45 2370.90 29222.0 30456 330.21
2012-2011 911.10 2251.50 27467.9 30147 326.86
2013-2012 898.10 2219.40 26612.0 29629 321.25
2014-2013 887.30 2192.60 26497.5 29863 323.78
2015-2014 886.20 2189.80 26134.4 29491 319.75

(1) برسیم کی کاشت

برسیم موسم ربیع کا ایک نہایت اہم اور غذائیت سے بھر پور چارہ ہے۔ عموماً اسے اکیلا ہی لیکن بعض اوقات جئی، سرسوں اور رائی گھاس کے ساتھ ملا کر بھی کاشت کیا جاتاہے۔ یہ ایک پھلی دار فصل ہے اس کی جڑوں کی گانٹھوں میں ہوا سے نائیڑوجن حاصل کرکے پودے کے استعمال میں لانے والے جراثیم موجود ہوتےہیں۔ اسی لئے برسیم کاشت کرنے سے زمین کی زرخیزی بڑھ جاتی ہے۔ برسیم کے کھیتوں میں اگلے سال کاشت کی جانے والی گندم کی فصل زرخیزی بڑھنے اور جڑی بوٹیوں سے پاک ہونے کی وجہ سے 5 سے 10 من فی ایکڑ زیادہ پیداوار دیتی ہے۔ زرعی ماہرین کی سفارشات پر بروقت عمل کرکے اس فصل سے 1000 تا 1250 من سبز چارہ (40 سے 50 ٹن) فی ایکڑ حاصل کیا جاسکتاہے۔ چونکہ یہ فصل نومبر سے مئی تک چارے کی چار سے بھر پور کٹائیاں دیتی ہے۔ اس لئے اس کی اعلی خصوصیات کی بنا پر اسے پاکستان میں ربیع کے چارہ جات کا بادشاہ تسلیم کیا جاتاہے۔ ربیع کے چاروں کے کل رقبے کے 77فیصد پر برسیم کاشت کیا جاسکتاہے۔

اقسام :

برسیم کی منظور شدہ اقسام پر برسیم ، لیٹ فیصل آباد، انمول اگیتی برسیم اور پچھیتی برسیم صف اول کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگیتی برسیم جلد چارہ مہیاکرتی ہے اورپچھتی برسیم ایک اضافی کٹاتی دے کر چارے کی قلت پر قابو پاتی ہے۔ جبکہ انمول 15 اکتوبر کی کاشت فصل 30 جون تک سات کٹائیاں دیتی ہے۔ سپر برسیم بھی پچھیتی قسم ہے اور 31 مئی تک چارہ فراہم کرتی ہے۔

آب و ہوا :

برسیم کی کامیابی کاشت ،بہترین نشوونما اور بھر پور پیداوار کے لئے معتدل آب و ہوا کی ضورت ہوتی ہے۔ کسی حد تک گرم آب و ہوا میں بھی اس کی کاشت کی جاسکتی ہے۔ مگر شدید سردی یعنی دسمبر اور جنوری میں اس کی بڑھوتری قدرے کم ہوجاتی ہے۔ پنجاب کے تمام آبپاش علاقوں میں اس کی کاشت با آسانی کی جاسکتی ہے۔

زمین اور اس کی تیاری :

یہ فصل بھاری میرا زمینوں پر سب سے زیادہ پیداوار دیتی ہے۔ لیکن قدرے ہلکی زمینوں پر بھی ٹھیک نشوونما پاتی ہے اگر آب پاشی کی سہولت میسر ہوتو یہ درمیانے درجے کی کلر اٹھی زمین پر بھی کاشت کی جاسکتی ہے۔ زمین تین چار دفعہ ہل اور سہاگہ چلا کر اچھی طرح نرم اور بھر بھری کر لینی چاہئے۔ زمین کا ہموار ہونا نہایت ضروری ہے۔ ورنہ نشیبی جگہوں پر پانی کھڑارہنے اور اونچی جگہ پر پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے فصل کا اگاو متاثر ہوگا۔ اور نتیجیتاً پیداوار میں کمی آئے گی۔

شرح بیج :

برسیم کی کاشت کےلئے 8 کلو گرام فی ایکڑ صاف ستھرا معیاری صحت مند اور جڑی بوٹیوں سے پاک بیج استعمال کریں۔ جئی کے ساتھ مخلوط کاشت کی صورت میں برسیم کا بیج 6 کلو گرام اور جئی کا بیج 10 تا12 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں جبکہ سرسوں کے ساتھ مخلوط کاشت کی صورت میں 8 کلو گرام بیج برسیم اور آدھ کلو گرام بیج سرسوں فی ایکڑ استعمال کریں۔ رائی گھاس کے ساتھ مخلوط کاشت کی صورت میں 07 کلو گرام بیج برسیم اور ایک کلو گرام بیج رائی گھاس فی ایکڑ استعمال کریں۔ کاسنی کے بیج کی ملاوٹ کی صورت میں برسیم کے بیج کو 5 فیصد نمک کے محلول میں بھگو نے سے کاسنی اوپر تیر آتے ہیں ۔ جن کو بآسانی علیحدہ کیا جاسکتاہے۔

وقت اور طریقہ کاشت :

برسیم کی کاشت کا بہترین وقت یکم سے وسط اکتوبر ہے ۔ تاہم زمیندار اپنی ضرورت اور حالات کے مطابق اس کی کاشت نومبر کے آخر تک جاری رکھتے ہیں۔ اگیتی کاشت کرنے سے جڑی بوٹیوں خصوصاً اٹ سٹ اگنے کا احتمال ہوتاہے۔ جو پیداوار میں کمی کا موجب ہوسکتی ہے۔ دیر سے کاشت کرنے سے کم کٹائیاں حاصل ہوتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ فصل کو بروقت کاشت کریں۔

کھادوں کااستعمال

چارہ برسیم کی کاشت کےلئے تمام کھادیں بوائی کے وقت استعمال کریں۔ کھادوں کی مقدار کاتعین درج ذیل گوشوارہ کے مطابق کریں۔

گوشوار ہ نمبر2 :

غذائی عناصر کلو گرام فی ایکڑ کھاد کی مقدار بوریوں میں فی ایکڑ
نائٹروجن فاسفورس
13 36 1.5 بوری ڈی اے پی یا چار بوری سنگل سپر فاسفیٹ (18 فیصد)+آدھی بوری یوریا یا ڈیڑھ بوری ٹرپل سپر فاسفیٹ +آدھی بوری یوریا یا ایک بوری نائٹروفاس + تین بوری ایس ایس پی (18 فیصد)

آبپاشی :

بوائی بذریعہ چھٹہ کھڑے پانی میں کی جاتی ہے۔ پہلا پانی بوائی کے ایک ہفتہ بعد دینا چاہئے۔ بعد میں پانی حسب ضرورت لگاتے جائیں۔ شدید سردی اور کورے کے دنوں میں ہر ہفتہ عشرہ بعد ہلکا سا پانی لگانا فائدہ مند ہوتاہے۔ اس طرح فصل کورے اور سردی کے منفی اثرات سے کافی حد تک محفوظ رہتی ہے۔

برسیم کا جراثیم ٹیکہ :

بیج کو جر اثیمی ٹیکہ لگاکر کاشت کرنے سے پودے کی ہو ا سے نائٹروجن حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔اور زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ نصف لیٹر پانی میں سوگرام چینی کے محلول میں جراثیمی پیکٹ ڈال کر آٹھ کلو برسیم کے بیج کے ساتھ اچھی طرح ملائیں ۔ اور سایہ دار جگہ پر بیج قدرے خشک ہونے پر کھڑے پانی میں جلدی چھٹہ کریں۔ کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکہ کی افادیت بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ اگر کہیں ایسا ٹیکہ میسر نہ ہو اور اگر کسی کھیت میں برسیم کی کاشت پہلی بارکی جارہی ہو تو دو من فی ایکڑ برسیم کی مفید جراثیم والی مٹی اس کھیت سے لا کر ڈال دی جائے جہاں پچھلے سال برسیم کاشت کیا گیا ہو۔ اس کے علاوہ یا د رہے کہ یہ مٹی بیمار شدہ کھیت سے نہ لی گئی ہو ۔ شعبہ بیکڑیا لوجی ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد، نیاب فیصل آباد اور قومی زرعی تحقیقاتی ادارہ اسلام آباد سے برسیم کے بیج کا ٹیکہ حاصل کرکے محکمانہ ہدایات کے مطابق استعمال کریں۔

مخلوط کاشت :

برسیم کے ساتھ جئی ، گوبھی سرسوں اور رائی گھاس کی کاشت کرنےسے خصوصاً چارے کی پہلی کٹائی کی پیداواری صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ جئی کے ساتھ مخلوط کاشت کرنے کی صورت میں تیار کھلے کھیت میں جئی کا بیج بحساب 10سے 12 کلو گرام فی ایکڑ بکھیر کرسہاگہ دے لیں۔ اور بعد میں کھیت میں کیارے بنا کر کھڑے پانی میں برسیم کا چھٹہ بحساب 6 کلو گرام فی ایکڑ کریں۔ سرسوں کے ساتھ مخلوط کاشت کی صور ت میں 8 کلوگرام بیج برسیم اور آدھ کلو گرام بیج سرسون فی ایکڑ استعمال کریں۔ جبکہ رائی گھاس کے ساتھ مخلوط کاشت کی صورت میں 7 کلو گرام بیج برسیم اورایک کلو گرام بیج رائی گھاس فی ایکڑ استعمال کریں۔

برسیم کے کیڑے اورا ن کا تدارک :

چارے والی فصل پر زہر پاشی نہیں کرنی چاہئے البتہ اگر فصل کو بیج کے لئے رکھنا مقصود ہو تو مختلف کیڑوں کے کنٹرول کےلئے گوشوارہ نمبر 5 ملا حظہ فرمائیں ۔ اگر فصل کو شروع اکتوبر میں کاشت کیا جائے ۔ موسمی حالات سازگار رہیں اور دیگر زرعی عوامل اور محکمانہ سفارشات پر پورا عمل کیا جائے تو چارے کی پیداوار 1000 من فی ایکڑ تک آسانی سے لی جاسکتی ہے۔