چنے کے نقصان دہ رساں کیڑے اور ان کا انسداد سال 18-2017


چنے کے نقصان دہ رساں کیڑے اور ان کا انسداد:

نام کیڑا پہچان نقصان انسداد

دیمک

یہ کیڑا ایک کنبہ کی شکل کا رہتاہے ۔ اس میں بادشاہ ، ملکہ،سپاہی اور کارکن ہوتے ہیں۔ فصلوں کا نقصان صرف کارکن کرتے ہیں۔ جن کی رنگت ہلکی پیلی ، سر بڑا اور جسامت عام پیونٹی سے بڑی ہوتی ہے۔

پودوں کی جڑوں پر حملہ کرتی ہے۔اور زمین میں سورنگیں بناتی ہے۔ حملہ شدہ پودے سوکھ جاتے ہیں۔ دیمک کا حملہ فصل اگنے سے کٹائی تک بھی ہوسکتاہے۔

کھیتوں کچی گوبر کی کھاد بالکل استعمال نہ کریں۔ بروقت آبپاشی سے بھی دیمک کا حملہ کم ہوجاتاہے۔ بارانی علاقوں میںمناسب مقدارمیں زہر کو ریت یا مٹی میں ملا کر زمین کی تیاری کےوقت کھیتوں میں بکھیر دیں۔

ٹوکا

کیڑے کا رنگ مٹیالہ جسم مضبوط اور تکون نما ہوتاہے۔

اگتی ہوئی فصل کے چھوٹے پودوں کو کاٹ کر کھاتاہے۔

دستی جال سے بالغ ٹوکہ کو پکڑ کر تلف کریں۔ کھیت کو ہر قسم کی جڑی بوٹیوں سے پاک رکھیں۔

چور کیڑا

پروانہ جسامت میں بڑا اور پروں کا رنگ گندمی بھورا ہوتاہے۔ اگلے پروں کے کناروں کی طرف گردے کی شکل کا دھبہ ہوتاہے۔ پچھلے پر سفید یا زرد ہوتے ہیں۔ سنڈی کا رنگ سیاہ اور قد میں کافی بڑی ہوتی ہے۔

سنڈیاں دن کے وقت پودوں کے قریب مٹی میں چھپی رہتی ہیں اور رات کے وقت چھوٹے پودوں کوکاٹ کاٹ کر فصل کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

ناقابل استعمال پتوں اور سبزیوں کو کاٹ کرشام کو ڈھیریوں کی شکل میں رکھیں اور صبح اس ڈھیریوں کے نیچے چھپی ہوئی سنڈیاں تلف کریں۔ گوڈی کرکے پانی لگائیں۔

سست تیلا

قد میں چھوٹا اور رنگت میں سبز یا پیلا ہوتاہے۔ پیٹ کے اوپر موجود نالیوں سے لیس دار رطوبت نکلتی رہتی ہے۔ کیڑا پردار اور بغیر پردونوں حالتوں میں موجود ہوتاہے۔ فصل تیار ہونے کے قریب ہوتویہ کیڑا رنگت میں سیاہ اور پردار ہوجاتاہے۔ یہ کیڑا بہت آہستہ آہستہ جلتاہے۔

پتوں کی نچلی سطح سے رس چوستاہے۔ جس سے پودے کمزور ہوجاتے ہیں۔ یہ میٹھا لیس دار مادہ خارج کرتا جس پر کالی پھپھوندی اُگ آتی ہے۔ جس سے ضیائی تالیف کا عمل متاثر ہوتاہے۔ یہ وائرسی امراض پھیلانے کا سبب بنتاہے۔

جڑی بوٹیاں تلف کریں۔ مفید کیڑوں خاص کر کچھوا بھونڈی، لیڈی برڈبیٹل یا کرائی سوپرلا کی حوصلہ افزائی کریں۔

لشکری سنڈی

پروانہ ہلکے بھورے رنگ کا ہوتاہے۔ اگلے پر گہرے بھورے رنگ کے ہوتے ہیں جن کی اُوپر والی سطح پر سفید رنگ کی لکیروں کا جال بچھا ہوتاہے۔ اور کہیں کہیں سیاہ دھبے ہوتے ہیں جبکہ پچھلے پر سرمئی رنگ کے ہوتے ہیں۔ سنڈی کا رنگ سبزی مائل بھورا ہوتاہے۔ جسم پر سفید لائنیں ہوتی ہیں۔ ہاتھ لگانے سے فوراً گول ہوکر گرجاتی ہے۔

شدید حملے کی صورت میں سنڈیاں لشکر کی صورت میں پودوں کو ٹنڈ منڈ کردیتی ہیں۔ اور ایک کھیت سے دوسرے کھیت کی طرف یلغار کرتی ہیں۔

حملہ شدہ کھیتوں کے گرد کھائیاں کھودیںتاکہ سنڈیاں دوسرے کھیتوں کی طرف منتقل نہ ہوسکیں۔ ان کھائیوں میں زہر پاشی کا عمل کیا جائے یا پانی لگاکر مٹی کا تیل ڈال دیا جائے۔ لشکری سنڈی کو پرندے رغبت سے کھاتے ہیں اس لئے پرندوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ جڑی بوٹیاں تلف کی جائیں۔ زمین میں چھپے ہوئے کویوں کو تلف کریں۔ شروع میں حملہ ٹکڑیوں میں ہوتاہے۔ اور سنڈیاں ایک جگہ پر کافی تعداد میں ہوتی ہیں۔ اس وقت ان کا انسداد زیادہ موثر اور کم خرچ ہوتاہے

ٹاڈ کی سنڈی

اس سنڈی کا پروانہ پیلے اور بھورے رنگ کا ہوتا ہے۔ سنڈی کا رنگ سبزی مائل ہوتاہے۔ پیوپا گہرے کالےبھورے رنگ بدل لیتی ہے۔ سنڈی کے جسم پر لمبائی کے رخ دھاریاں ہوتی ہیں اور جسم پر ہلکے ہکلے بال بھی ہوتے ہیں۔

سنڈی پھلیوں میںسوراخ کرکے اندر داخل ہوجاتی ہے اور دانوں کو کھاتی رہتی ہے۔

جڑی بوٹیاں تلف کی جائیں۔ چڑیاں سنڈیوں کو بڑے شوق سے کھاتی ہیں اس لئے کھیتوں میں انہیں بیٹھنے کے لئے درختون یا ڈنڈوں سے رسیاں باندھ کر جگہ مہیا کی جائے۔ روشنی کے پھندے لگائیں۔

نوٹ: کیڑوں کی کمیمائی انسدادکے لئے محکمہ زراعت کے عملے سے مشورہ کرکے ایسی زہروں کا انتخاب کریں جو نقصان دہ کیڑوں کے خلاف مرثر اور کسان دوست کیڑوں کے لئے کم نقصان دہ ہوں۔