چنے کی پیداوار کی اہمیت سال 18-2017


چنے کی پیداوار کی اہمیت

  • چنا ربیع کی ایک اہم پھلی دار فصل ہے۔
  • پنجاب میں تقریبًا بائیس ایکڑ رقبے پر چنے کی کاشت کی جاتی ہے جو ہمارے ملک میں چنے کے کل رقبے کا تقریبًا 80 فیصد ہے۔
  • پنجاب میں چنے کا تقریبًا 92 فیصد رقبہ بارانی علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے جس میں زیادہ تر تھل بشمول بھکر، خوشاب، لیہ، میانوالی، جھنگ اور مظفر گڑھ کے اضلاع شامل ہیں۔
  • ان اضلاع کے بارانی علاقوں کے کاشتکاروں کی معیشت کا انحصار زیادہ تر اسی اصل پر ہے۔
  • چنا غزائیت کے اعتبار سے بھی ایک اہم جنس اور گوشت کا نعم البدل ہے۔
  • پھلی دار فصل ہونے کی وجہ سے یہ ہوا وے نائٹروجن حاصل کرکے اسے زمین میں شامل کرتی ہے جس سے زمین کی زرخیزی بحال رہتی ہے۔
  • چنے زیادہ تر کم بارش والے بارانی علاقون مین کاشت ہوتے ہیں۔
  • جہاں زیادہ تر دیسی اقسام کاشت کی جاتی ہیں۔
  • کابلی چنے کی پانی کی ضرورت دیسی چنے کی نسبت زیادہ ہے۔
  • کابلی اقسام کی کھپت روز بروز بڑھ رہی ہے جسے پورا کرنے کیلئے مختلف ممالک مثلًا ایران، آسٹریلیا اور ترکی وغیرہ سے کابلی چنے کی درآمد کی جاتی ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے کابلی چنے کی پیداوار بڑھانےکی ضرورت ہے۔
  • اس مقصد کے لئے کابلی چنے کی مزید بہتر اقسام کی دریافت اور اس کے رقبہ میں اضافہ ضروری ہے۔
  • مزید بہتر اقسام کی دریافت اور کابلی چنے کی ستمبر کاشتہ کماد میں اور دھان کے بعد کاشت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
  • علاوہ ازیں دیسی اور کابلی چنے کی دریافت کردہ اقسام اور پیداواری ٹیکنالوجی اپنا کر چنے کی اوسط پیداوار کافی حد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
  • چنے کی اقسام کی بہتری اور پیداواری ٹیکنالوجی پر مذید کام جاری ہے۔

چنے کا رقبہ، پیداوار اور اوسط پیداوار

ذیل میں دیئے گئے گوشوارہ میں گزشتہ پانچ سالوں میں چنے کا زیر کاشت رقبہ، کل پیداوار، اور اوسط پیداوار دی گئی ہے۔

چنے کا رقبہ، کل پیداوار، اور اوسط پیداوار

سال رقبہ کل پیداوار اوسط پیداوار
ہزار ہیکڑ ہزرار ایکڑ ہزار ٹن کلوگرام فی ہیکڑ من فی ایکڑ
2011-12 920.7 2273.58 224.7 244 2.65
2012-13 908.05 2243.88 691 761 8.25
2013-14 857.85 2119.84 330.7 385 4.18
2014-15 864.35 2135.9 322.4 373 4.04
2015-16 دوسرا تخمینہ 860.44 2126.24 246.4 286 3.1