دیسی چنے کی ترقی دادہ اقسام سال 18-2017


(1) بھکر 2011

دیسی چنے کی قسم بھکر 2011 زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل ہونے کے علاوہ جھلسائو، جڑ کی سڑن، مرجھائو کے خلاف بہترین قوت مدافعت رکھتی ہے۔ اس کے دانے موٹے ہوتے ہیں۔ یہ قسم پیلےپن سے محفوظ رہتی ہے۔نہری اور بارانی علاقوں میں کاشت کے لئے موزوں ہے۔علاوہ ازیں بھکر 2011 کورے کے خلاف بھی بہت اچھی قوت مدافعت رکھتی ہے۔ اس کے 1000 دانوں کا وزن 276 گرام تک ہے۔یہ قسم باقی اقسام کی نسبت پہلے پک کر تیار ہوجاتی ہے۔جس کی وجہ سے شدید گرمی سے بھی بچ جاتی ہے۔اس کی پیداواری صلاحیت 3500 کلو گرام فی ہیکڑ ہے اور اوسط پیداوار آبپاس علاقہ میں 1925 کلو گرام اور بارانی علاقہ میں 1200 کلو گرام فی ہیکڑ تک ہے۔ چنے کی یہ قسم ایرڈزون ریسرچ انسٹٹیوٹ بھکر کی تیار کردو ہے۔

(2) پنجاب 2008

بہتر پیداواری صلاحیت کی حامل دیسی چنے کی یہ قسم جھلسائو، مرجھائو، اور پیلے پن کے خلاف بہتر قوت مدافعت رکھتی ہے۔ اس کے دانے موٹے اور پیداواری صلاحیت تمام مروجہ اقسام سے زیادہ ہے۔ یہ قسم نہ صرف آبپاش بلکہ بارانی علاقوں میں بھی کاشت کے لئے موزوں ہے۔ اس کی کاشت 15 اکتوبر سے 7 نومبر تک موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر کی جاسکتی ہے۔ چنے کی یہ قسم نظامت دالیں ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کی تیار کردہ ہے۔

(3) تھل 2006

یہ تھل کے علاقے کے لئے نہایت موزوں ہے۔اس کے دانے موٹے ہیں اور فی ہزار دانوں کا وزن 280 گرام ہے۔ یہ قسم تھل کے بارانی اور آبپاش دونوں علاقوں کے لئے موزوں ہے۔ موسمی حالات اور زمین کے وتر کو مدنظر رکھتے ہوئے بارانی علاقوں میں اکتوبر کا پورا مہینہ کاشت کی جاسکتی ہے۔

(4) بلکسر 2000

دیسی چنے کی یہ قسم بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کی تیار کردہ ہے۔ جھلساو اور مرجھاو دونوں کے خلاف درمیانی قوت مدافعت رکھنے کے ساتھ ساتھ اعلٰی پیداواری صلاحیت کی بھی حامل ہے۔ یہ پوٹھوہار کے علاقہ کے لئے نہایت موزوں ہے۔

(5) ونہار 2000

دیسی چنے کی یہ قسم بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کی تیار کردہ ہے۔ یہ قسم پوٹھوہار کے علاقہ کے لئے نہایت موزوں ہے۔ یہ جھلساو اور مرجھاو کے خلاف درمیانی قوت مدافعت رکھتی ہے۔

(6) بِٹل 98

دیسی چنے کی یہ قسم نظامت دالیں، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کی تیار کردہ ہے۔ بِٹل 98 چنے کی مروجہ قسم سی 44 میں اصلاح کرکے تیاری کی گئی ہے۔ یہ سی 44 کی طرح تھل کے بارانی علاقوں کے لئے نہایت موزوں ہونے کے ساتھ ساتھ آبپاش علاقوں میں بھی کامیابی سے کاشت کی جاسکتی ہے سی 44 آبپاش علاقوں میں پیلے پن کاشکار ہوجاتی ہے۔ بِٹل 98 زیادہ پیداوار کی حامل اور جھلساو دونوں بیماریوں کے خلاف درمیانی قوت مدافعت رکھتی ہے۔ یہ پیلے پن سے بھی محفوظ رہتی ہے۔ یہ قسم پنجاب میں بارانی اور نہری دونوں علاقوں میں کاشت کے لئے موزوں ہے۔

(7) سی ایم 98

دیسی چنے کی یہ قسم نیاب فیصل آباد نے جوہر شعاوں کے ذریعے تیارکی ہے۔ سی ایم 98 زیادہ پیداواری صلاحیت کے علاوہ جھلساو اور مرجھاو دونوں بیماریوں کے خلاف درمیانی قوت مدافعت رکھتی ہے۔ یہ پیلے پن سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ اس کے دانے موٹے ہیں۔ یہ قسم پنجاب کے بارانی اور نہری دونوں علاقوں میں کاشت کے لئے موزوں ہے۔