سیپا کی ٹیم کا درآمدی چینی افغانستان کو برآمد نہ کرنے کا مشورہ


کراچی: محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی حکومت سندھ کی ہدایت پر ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ کی ایک ٹیکنیکل ٹیم نے ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر عاشق علی لانگاہ کی قیادت میں پاکستان کسٹمز کراچی کا دورہ کیا اور افغانستان برآمد کے لیے بھارت سے درآمد شدہ چینی کے مبینہ آلودہ ہونے پر معلومات حاصل کیں۔

ترجمان کے مطابق سیپا کی ٹیم کوبتایا گیا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستان برآمد کرنے کی خاطر بھارت سے درآمد شدہ 65کنٹینرز میں رکھی چینی کو پی سی ایس آئی آر اور ایچ ای جے ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں زائد المیعاد ہونے کے باعث استعمال کے لیے نقصان دے قرار دیا ہے۔

ٹیم کو بتایا گیا کہ مذکورہ دونوں لیبارٹریوں نے چینی کے نمونوں سے چار اہم پیرامیٹرز بشمول پولورائزیشن، موائسچر، انورٹ شوگر اور کلر کو عالمی معیارات کی روشنی میں جانچنے کے بعد اسے انسانی استعمال کے لیے غیر موزوں قرار دیا ہے۔اس موقع پر سیپا ٹیم کا یہ بھی موقف تھا کہ کوئی بھی زائد المیعاد چیز خاص طور پر خورو نوش کی چیز کو اس سے نکلنے والی ناگوار بو کی باعث بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا اطراف کے لیے زحمت کا باعث ہوتا ہے۔ سیپا کے ڈائریکٹر نے کسٹمز کو مشورہ دیا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مذکورہ زائد المیعاد چینی کو افغانستان برآمد نہ کیا جائے۔