جنوری تا اگست،کھانےپینے کی درآمدی اشیاء پر 3 ارب ڈالر خرچ


ڈالروں کی کمی کے شکار ملک پاکستان کے عوام نے 3ارب ڈالر اشیائے خورونوش کی درآمد پر اڑا دیے ۔ڈالر کی قدر بڑھنے پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق فوڈ گروپ کی درآمد پر صرف آٹھ ماہ میں دو ارب 97کروڑ 33 لاکھ ڈالر خرچ کر دیے گئے ۔ پام آئل اور چائے کی پتی کی درآمد پر سب سے زیادہ رقوم خرچ کی گئیں ۔ جنوری تا اگست پام آئل کی خریداری پر ملک کو ایک ارب دو کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ خرچ کرنا پڑا ۔ سویا بین آئل کی درآمد پر بھی 8 کروڑ 67 لاکھ ڈالر خرچ ہوئے ۔ چائے کی پتی کی درآمد پر 31 کروڑ 64 لاکھ 56 ہزار ڈالر بیرون ملک گئے ۔زرعی ملک کے دعوے کے باوجود دالوں کی درآمد بھی کی جا رہی ہے ، دالوں کی خریداری پر 24کروڑ 37 لاکھ ڈالر خرچ ہوئے ۔ دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء کی خریداری کے لیے 15 کروڑ 22 لاکھ 48 ہزار ڈالر خرچ کرنے پڑے جب کہ کھانوں کو چٹ پٹا بنانے کے لیے نو کروڑ 63 لاکھ 16 ہزار ڈالر بیرون ملک ادائیگیاں کی گئیں ۔فیڈریشن چیمبر آف کامرس کے سابق وائس چیئرمین منظور ملک نے کہا کہ ہم زرعی ملک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حکومتی پالیسیوں میں زراعت کے حوالے سے ترجیحات نظر نہیں آتیں ، چائے کی پتی ، دالیں اور خوردنی تیل ، مصالحہ جات کی درآمدات کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا ہے ، ہماری زمین اور ہمارے وسائل اس قدر موجود ہیں کہ یہ تمام اشیاء اپنے ملک میں پیدا کر سکتے ہیں۔