مویشیوں کے چارے کو محفوظ کرنے اوراس کی برآمد کے رحجان میں اضافہ


مویشیوں کے لئے چارے کی کمی پر قابو پانے کے لئے مختلف چارہ جات کو طویل عرصے تک محفوظ کرنے اوراس کی برآمدکارحجان بڑھنا شروع ہوگیا۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں مویشیوں کے نجی فارم ہاوسزمیں محفوظ شدہ چارہ سائیلج اوربھوسہ کااستعمال 20 فیصدتک پہنچ گیا ہے اوراس میں اضافہ ہورہا ہے۔ یو اے ای کے بعد اب چائنہ میں بھی سائیلج اور حئے کی برآمد بڑھائی جائے گی۔

محکمہ لائیو اسٹاک پنجاب کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت ترقی پزیر ممالک میں جانور خوراک کی کمی کا شکار ہیں، خوراک کے موجودہ ذرائع سے ناصرف جانوروں کی پیداوار متاثرہورہی ہے بلکہ ان کو زندہ رکھنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔

لائیو اسٹاک پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر آصف رفیق نے بتایا کہ مویشیوں میں خوراک کی کمی پوری کے لئے سالانہ 24 ملین ٹن خشک مادہ ،18 ملین ٹن قابل ہضم اجزا اور 4 ملین ٹن لحمیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اوراناج پیداکرنے والی فصلوں کی کاشت میں اضافے کی وجہ سے چارہ جات کی کاشت بتدریج کم ہورہی ہے۔ پاکستان میں 56.71 ملین ایکڑ رقبے پر اناج پیدا کرنے والی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں جبکہ صرف 8.27 ملین ایکڑ رقبے پرچارے کی فصلیں کاشت ہوتی ہیں جس سے تقریبا 53 ملین ٹن سالانہ چارہ پیداہوتا ہے۔

ڈاکٹر آصف رفیق نے یہ بھی بتایا کہ مویشیوں کی پرورش پرسب سے زیادہ یعنی 60 سے 90 فیصداخراجات ان کے چارے پرخرچ ہوتے ہیں۔ دودھ دینے والے جانوروں کو ونڈا اورکھل جات دیئے جاتے ہیں جو انتہائی مہنگے ہیں اوران کی وجہ سے دودھ کی قیمت بڑھتی رہتی ہے۔

لائیو اسٹاک پنجاب کے ریسرچ آفیسر ڈاکٹر رشید نے بتایا کہ جولائی اور اگست میں سبز چارہ جات کی پیداوار بڑھ جاتی ہے جب کہ اپریل، مئی اورجون میں جانوروں کی خوراک کم ہوجاتی ہے۔ جس موسم میں اضافی چارہ پیدا ہوتا ہے اس چارے کو آئندہ کئی ماہ بلکہ کئی برسوں تک محفوظ بنایا جاسکتا ہے ۔اس چارے کو سیلج اور حئے کہتے ہیں۔ بہتر خوراک سے مویشیوں کی پیداوارمیں 50 فیصد اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ سیلج نمی والی خمیرشدہ خوراک ہے جسے آکسیجن کے بغیر رہنے والے جراثیم خمیر پیدا کرکے محفوظ کرتے ہیں۔ اس حوالے سے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اوربیفلوریسرچ انسٹی ٹیوٹ پتوکی کے شعبہ خوراک میں چارہ جات اوراس کے سائیلج کے تقابلی جائزہ پرکئی کامیاب تجربات کئے جاچکے ہیں

لاہورمیں سائیلج تیار کرنے والے ایک فارمررانا محمداعجازنے بتایا کہ سائلیج بنانے کے لئے فصل کوایسے وقت میں کاٹاجاتا ہے جب اس میں زیادہ سے زیادہ غذائی اجزاموجودہوں ، سائلیج بنانے کے لئے موزوں چارہ جات میں مکئی ،جوار،باجرہ ،ماٹ گراس،جئی ، برسیم اورلوسرن شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سائیلج بنانے کے لئے چارے میں نمی 65 سے 70 فیصد جبکہ خشک مادہ 30 سے 35 فیصدسے زیادہ نہیں ہوناچاہئے۔

رانا محمد اعجازنے کہا سائیلج بنانے کے لئے چارے کو پھول آنے کے بعد کاٹ لیاجاتا ہے اوراس کو کتر کراس میں گنے کا شیرہ 2 سے 4 فیصد بلحاظ وزن شامل کیاجاتا ہے پھراس چارے کوگڑھوں میں دباکرہوابندکردی جاتی ہے، 30 دن کے بعد سائیلج بنناشروع ہوجاتا ہے۔ انہوں نے بتایا 5 فٹ گہرے ،10 اور20 فٹ چوڑے گھڑے میں 30 ہزارکلوگرام یا ایک ایکڑچارہ محفوظ کیاجاسکتا ہے یہ مقدارتقریبا 30 بھینسوں کی ایک ماہ کی خوراک کے لئے کافی ہوتی ہے

لائیواسٹاک کے ریسرچ آفیسرڈاکٹررشیدکے مطابق جانوروں کے لئے چارہ سے حئے تیارکرنا زیادہ آسان ہوتا ہے ، اس مقصدکے لئے مخصوص چارہ جات کو پھول آنے پرکاٹ لیاجاتا ہے اورپھرانہیں دھوپ میں خشک کرپلاسٹک کےبڑے تھیلوں میں پیک کرکے ہوابندکردی جاتی ہے۔ سائلیج اوربھوسہ دونوں چارہ جات کو اگراچھے طریقے سے ہوابندکیاجائے تواسے دو،تین برسوں تک محفوظ رکھاجاسکتاہے ۔چارے کی کمی کی سیزن میں اس محفوظ شدہ چارے کو استعمال میں لایاجاسکتاہے جس کی غذائیت میں کوئی کمی نہیں آتی ہے

لائیو اسٹاک ماہرین کے مطابق اس وقت یو اے ای اور چین میں سائلیج اور حئے ایکسسپورٹ کیاجارہا ہے تاہم آنے والے وقت اور سی پیک مکمل ہونے پر اس کی مقدار بڑھائی جائے گی جس سے پاکستانی کاشتکاروں کو فائدہ ہوگا، ماہرین کے مطابق ملک کے اندر بھی کاشتکاروں میں سائیلج اور بھوسہ سے متعلق آگاہی پیدا کی جائے گی تاکہ وہ اپنے مویشیوں کو روایتی چارہ دینے کی بجائے سائیلج اور حئے استعمال کریں جس سے زیادہ دودھ حاصل ہوگا جبکہ مویشیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔