ٹوبیکو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم متعارف کروانے کا منصوبہ مزید تاخیر کا شکار


اسلام آباد فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے ٹوبیکو سیکٹر کی آن لائن مانیٹرنگ کیلے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم متعارف کروانے کا منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے اورطاقتور لابی اس منصوبے کومتنازعہ بنانے کیلیے متحرک ہوگئی ہے۔

ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پراجیکٹ پر عملدرآمد کیلیے رواں ماہ( ستمبر 2019 )کے آخر تک کامیاب کمپنی کو لائنسنس جاری کرنے کی آئی ایم ایف کی شرط پوری نہ ہونیکا امکان پیدا ہوگیا ہے جبکہ آئی آیم ایف کا وفد آئندہ ہفتے پاکستان پہنچ رہا ہے اورباثر و طاقتور ٹوبیکو لابی اس منصوبے کیلیے ٹی او آرز تبدیل کروانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

جمعرات کے روز چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی سے ٹوبیکو مینوفیکچررز کی ملاقات کے بعد جمعہ کوایف بی آر کی بورڈ ان کونسل نے لائنسنس جاری کرنے کے حوالے سے خواہش مند پارٹیوں و کمپنیوں سے اظہار دلچسپی کی درخواست(آئی ایف ایل) کیلیے ٹرمز آف ریفرنس تبدیل کرنے کی منظوری دیدی ہے جس سے قوی امکان ہے کہ خواہشمند پارٹیوں سے اظہار دلچسپی کی درخواستوں کیلیے مقرر کردہ 20 ستمبر کی تاریخ میں مزید توسیع کردی جائے گی۔

اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذرائع نے بتایا کہ طاقتور ٹوبیکو لابی کی وجہ سے یہ منصوبہ گذشتہ 9 سال سے زائد عرصہ سے التوا کا اشکار ہے اور پہلے بھی اس منصوبے کو متعارف کروانے کیلیے تمام تر انتظامات مکمل کرلیے گئے تھے اور بڈنگ پراسیس شروع ہوچکا تھا مگر اس وقت کے وزیر خزانہ اسد عمر نے تمام پراسیس منسوخ کرکے دوبارہ سے صاف و شفاف طریقے سے تمام پراسیس مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی اور منصوبے میں تاخیر کے ذمے داروں کا تعین کرنے کیلیے کمیٹی بھی قائم کی تھی مگر نہ تو اس کمیٹی کی کوئی سفارشات سامنے آسکیں اور نہ ذمے داروں کا تعین ہوسکا۔