کاشتکارعالمی مارکیٹ میں کپاس کے اچھے داموں کے لئے چنائی میں احتیاط برتیں، محکمہ زراعت پنجاب


کاشتکارعالمی مارکیٹ میں کپاس کے اچھے دام وصول کرنے کے لیے اہم مرحلے چنائی میں احتیاط برتیں۔محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کاشتکاروں کو چاہیے کہ آلودگی سے پاک کپاس کے حصول کو ممکن بنائیں کیونکہ آلودگی سے پاک کپاس کی کوالٹی بہتر ہو تی ہے اور منڈی میں اس کے نرخ زیادہ ملتے ہیں، کپاس کی چنائی ہمیشہ اس وقت کرنی چاہیے جب پودوں سے شبنم کی نمی بالکل ختم ہو جائے، اگر نمی والی کپاس کو گوداموں میں رکھ دیا جائے تو اس کے ریشے کا رنگ خراب ہو جا تا ہے اور گوداموں میں ضرورت سے زیادہ درجہ حرارت کپاس کے بیج کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

کپاس کی چنائی صبح 10 بجے کے بعد شروع کرکے شام 4 بجے بند کردیں۔ کپاس کی چنائی کا درمیانی وقفہ 15 سے 20 دن رکھنا ضروری ہے کیونکہ جلدی چنائی کرنے سے غیر معیاری اور کچا ریشہ حاصل ہو تا ہے، ایسی روئی مقامی اور عالمی منڈی میں بہت کم قیمت پر فروخت ہو تی ہے۔

چنائی کرتے وقت زمین پر گری ہوئی کپاس کو پتی سے صاف کر لیا جائے، چنائی کے وقت بادل یا بارش کا امکان ہو تو چنائی نہ کریں کیونکہ گیلی کپاس کی کوالٹی متاثر ہوتی ہے ۔

چنائی کرنے والی عورتیں سر پر سو تی کپڑا لے کر بالوں کو اچھی طرح ڈھانپ کر چنائی کریں تاکہ سر کے بال روئی میں مل کر روئی کی کوالٹی خراب نہ کریں۔کپاس کو صرف سوتی کپڑے کے بو روں میں رکھیںاور سلائی کے لیے بھی سو تی دھاگہ استعمال کریں ۔ یاد رہے پٹ سن کے بورے، پٹ سن کے سیبے اور پولی پر اپلین کے بوروں کا استعمال قانوناًً جرم ہے۔سوتی بوروں میں روئی بھرنے سے پہلے تمام ناکارہ آلائشوں کو نکال دینا چاہیے تاکہ روئی کا معیار بہتر ہو سکے۔

کپاس کو زیادہ دیر تک گودام میں نہ رکھیں کیونکہ اس سے کپاس کی کوالٹی متاثر ہو تی ہے۔پھٹی کو گیلی اور سایہ دار جگہوں پر نہ رکھیں بلکہ دھوپ میں خشک جگہوں پر سوتی کپڑا یا تر پال بچھا کر رکھیں۔انہوں نے کہاکہ شدید بارش کے بعد چنی ہوئی پھٹی کو بیج کے لیے ہر گز استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے اگائو بہت کم ہو تا ہے۔سڑک کے کنا رے کپاس کے ڈھیر نہیں لگانے چاہییں اور انہیں کھلا بھی نہیں چھوڑنا چاہیے تاکہ چنی ہو ئی پھٹی مٹی اور دوسری آلائشوں سے پاک رہ سکے اس لیے چنائی کے بعد جلد از جلد پھٹی سے بیج کا بنولہ الگ کر لیا جائے، بنولہ کو بر اتارے بغیر چند ماہ کے لیے پٹ سن کی ہوا دار بوریوں میں سٹور کیا جا سکتا ہے، اگر بر اتارنے کا عمل بجائی کے وقت کیا جائے تو کپاس کے بیج کی زیادہ سے زیادہ روئیدگی دستیاب ہو تی ہے۔

آلودگی سے پاک کپاس اور معیاری بیج کے حصول سے کاشتکار نہ صرف بہتر قیمت حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ملک کے لیے زیادہ زرمبادلہ بھی کماسکتے ہیں۔