کراچی میں ہلکی اورتیزبارش‘تین چاروزمیں ایک اورسسٹم آئے گا


کراچی میں جاری ہلکی اور تیزبارش کا پانی نشیبی آبادیوں اورسڑکوں پر جمع ہونے سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا رہا‘ پیرکو تھڈو ڈیم کا پانی اوور فلو ہونے کے بعد قریبی آبادیوں میں داخل ہو گیا‘ کورنگی کاز وے زیر آب آگیا‘محکمہ موسمیات نے کراچی میں مزیدبارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ تین سے چار روز میں بارش کے ایک اور سسٹم کی آمد متوقع ہے‘ محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ پیر کے مقابلے میں منگل کو تیز بارش متوقع ہے اور چوتھے مرحلے میں کراچی میں 40 سے 50 ملی میٹر سے زائد بارش ہو سکتی ہے۔مون سون سیزن تیس ستمبرتک جاری رہنے کا امکان ہے۔پیرکو بارش کے باعث سڑکوں پر گزشتہ بارشوں سے پڑنے والے گڑھے مزید گہرے ہونے سے ٹریفک کو گزرنے میں مشکلات رہیں‘ بعض علاقوں میں بارش کا پانی سیوریج لائنوں میں ڈالنے سے لائنیں اوورفلوہونے لگ گئیں جبکہ پہلے سے موجود پانی اور کیچڑ نے صورتحال کو مزید مشکل بنادیا ہے‘ آبادیوں کی اندرو نی اور مین سڑکیں کئی مقامات پر دھنس

 چکی ہیں‘ شاہ فیصل کالونی فلائی اوورکے تمام ایکپنشن جوائنٹ پر گڑھے پڑنے سے ٹریفک کو گزرنے میں مشکلات ہیں ‘شہر کی بعض دیگر فلائی اوورز کے ایکپنشن جوائنٹ بھی اکھڑچکے ہیں‘ شہریوں نے وزیراعلیٰ سندھ ، وزیربلدیات، میئرکراچی اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آبادیو ں میں جمع ہونے والے برساتی پانی کی فوری نکاسی کے ساتھ ٹوٹنے والی سڑکوں کی مرمت کا کام بھی ترجیحی بنیاد وںپر کیا جائے‘ پیر کو ہونے والی بارش سے ملیر، نرسری، کلفٹن، نارتھ کراچی، سرجانی سمیت دیگر علاقے متاثر ہونے کی اطلاعات ملیں‘ ان کی آبادیوں میں سڑکوں کا پانی بروقت صاف نہ ہونے سے ٹریفک کوگزرنے میں مشکلات رہیں۔دریں اثناء بارش کے باعث سڑکوں پرپانی جمع ہوجانے کی وجہ سےکئی علاقوں رات گئے تک میں بدترین ٹریفک جام رہا۔دفاتر سے واپس گھروں کو جانے والے شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئے،شہری گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہے۔گلشن حدید، ملیر،لانڈھی ایئرپورٹ،ڈیفنس، لانڈھی، کورنگی، صدر، پی ای سی ایچ ایس ،گرومندر کورنگی،ناظم آباد،لیاقت آباد،تین ہٹی ناگن چورنگی ،یوپی موڑ ،پاور ہاوس ،سلیم سینٹر ،گلستان جوہر سمیت علاقوںٹریفک جام ہوگیا جبکہ کورنگی کراسنگ کے قریب ندی میں پانی کے تیز بہاؤ کے باعث ند ی روڈ کو ٹریفک کیلیے بند کر دیا ہے اور ٹریفک کارخ جام صادق پل کی جانب موڑدیا گیا ہے جہاں صنعتی علاقوں سے آنے والے بھاری ٹرکوں،ٹینکروں اورکنٹینروں کے باعث بدترین ٹریفک جام رہا اور شہری رات گئے تک ٹریفک جام میں ہی پھنسے رہے۔دوسری جانب کراچی پریس کلب سے آئی آئی چندریگر روڈ تک سیکڑوں گاڑیاں پھنسی رہی، ٹریفک پولیس بھی روڈ کلیئر کرانے میں ناکام نظر آرہی ہے۔جبکہ ،عبداللہ ہارون روڈ،صدر ،شاہراہ فیصل ،ناظم آباد،لیاقت آباد،یونیورسٹی روڈ ،حسن اسکوائر،نارتھ ناظم آباد ،نارتھ کراچی ،نیو کراچی ،سرجانی سمیت اہم شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔