دریائے ستلج کے پانی میں اضافہ وہاڑی کے کئی علاقے زیر آب


دریائے ستلج کے 30ہزار کیوسک پانی کا سیلابی ریلا وہاڑی کے موضع جات موضع جملیرا، ساہوکا ،جھیڈو اور فاروق آباد سمیت دیگر بستیوں میں داخل ہو گیا جس سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں ریسکیو 1122 کے جوان کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے میں مصروف ہیں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے جس کے باعث مزید درجنوں بستیاں زیر آب آنے کا اندیشہ ہے ذرائع کے مطابق سیلابی ریلا آج ہیڈ اسلام اور میلسی سائفن سے گزرے گا۔ہیڈ اسلام کے مقام پر سابق دور حکومت میں بڑے زمینداروں نےپانڈ ایریا میں سیکڑوں مربع ایکڑ رقبہ اپنے اثر رسوخ کے ذریعے لیز پر لیا پٹہ داروں نے اپنا رقبہ دریائی پانی سے محظوظ بنانے کے لئے دریا کے بیٹ میں دونوں طرف کئی کلومیٹر لمبےغیر قانونی بند بنا لئے جس سے دریا سکڑ گیا اور بیٹ کم ہوگیا ان غیر قانونی بند وں کی وجہ سے سیلابی پانی کے مسلسل اضافہ سے پانی دریا کے بیٹ میں جانے کی بجائے دریا پر واقع بستیوں کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا جس

سے بستی نون،موضع مہر و بلوچ سمیت متعدد بستیاں زیر آب آگئی جبکہ متعدد بستیوں کے ڈوبنے کے خطرات بڑھ چکے ہیں اس کے علاوہ ان غیر قانونی بندوں کی وجہ سےدریا کے نواحی علاقے موضع کچھی ،لکھا سلدیرا ودیگر علاقوں میں سیلاب پانی سے کھڑی فصلیں زیر آب آگئی ہیں ذرائع کے مطابق پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے اور 3 روز پانی 60 ہزار کیوسک تک پہنچ جائے گا 50 ہزار کیوسک پانی پر نچلے درجے کا سیلاب مانا جاتا ہے اس حوالہ سے ایکسئین ایری گیشن ذیشان اشرف نے بتایا کہ یہ بند غیر قانونی ہے ا قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں ۔ منچن آباد کے قریب دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے سے حفاظتی بند ٹوٹ گیا جس کے سبب 53 بستیوں میں پانی داخل ہو گیا، علاقہ مکینوں نے نقل مکانی شروع کر دی۔ قصور میں دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 19 فٹ تک بلند ہو گئی جس سے کئی دیہاتوں میں دوبارہ پانی داخل ہوگیا، رابطہ سڑکیں بھی بند ہو گئیں۔ پاکپتن میں ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جس سے 71 بستیاں ڈوب گئیں ادھر اوچ شریف کے قریب دریائے ستلج میں بھی پانی کا بہاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ فلڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہیڈ پنجند کے قریبی علاقوں میں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔نقصانات سے بچنے کیلئے

علاقہ مکینوں نے مال مویشی سمیت نقل مکانی شروع کردی ہے۔ انتظامیہ صرف میڈیکل کیمپ لگانے تک محدود ہےعارف والا میں دریائے ستلج پر پانی کے تیز بہاؤ کے باعث ڈھولا بند ٹوٹ گیا جس سے سیکڑوں ایکڑ اراضی زیر آب آگئی، بند ٹوٹنے کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر پاکپتن احمد کمال مان اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موقعہ پر پہنچ گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق پرائیویٹ طور پر بنایا جانے والا بند خستہ حال تھا گزشتہ روز بھی اس بند میں شگاف پڑ گیا تھا جسے امدادی ٹیموں نے مقامی لوگوں کے تعاون سے پر کر دیا تھا، بند ٹوٹنے سے تحصیل کی متعدد بستیاں زیر آب آنے کے خدشہ کے باعث امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقہ میں موجود ہیں، دریا کے کنارے ریت ہونے کے باعث پانی قریبی آبادیوں میں داخل نہیں ہوا، تاہم دریا کے کنارے آباد بلاڑہ دلاور لکھوکا، بلاڑہ حسنکا، بستی نور کوٹ، چک جنگے کا جوئیہ، بستی سارنگ، بستی مینگل آبادی، بستی محمد حسین کھرل سمیت دیگر قریبی علاقوں میں پانی داخل ہونے کا خطرہ لاحق ہے، ریسکیو ذرائع کے مطابق 50 کے قریب مقامی افراد کو وہاں سے منتقل کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ڈھولا بند میں پڑنے والا شگاف زیادہ بڑی نوعیت کا نہیں ہے دوسری جانب پانی کی سطح میں بھی بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے ۔ راجن پور کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی سطح کم ہو گی ، کوٹ مٹھن کے مقام پر 2 لاکھ ایک ہزار کیوسک پانی گزرہا ہے ۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے یکم جولائی سے 25اگست تک ہونے والی بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کردیئے جس کے مطابق سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں ملک بھر مجموعی طور پر 225 افراد جاں بحق ہوئے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے سب خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا،جہاں 74افراد جاں بحق ہوئے ہوئے ،حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں مجموعی طور پر 166افرادزخمی ہوئے ۔ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب سے چھ مساجد شہید ہوئیں، 226دکانیں تباہ ہوئیں ،بارشوں اور سیلاب سے 18 پلوں اور 63 سڑکوں کو نقصان پہنچا۔ 399گھروں کو جزوی جبکہ 270گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے ، تین بجلی گھروں کو نقصان پہنچا۔