پنجاب میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 808 روپے مقرر کرنے پر اتفاق


لاہور ایوان وزیراعظم اسلام آباد میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں پنجاب میں سرکاری گندم کی قیمت فروخت 1375 روپے فی من اور 20 کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ پرچون قیمت 808 روپے مقرر کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا۔

پنجاب کابینہ آئندہ ہفتے اس کی منظوری دے گی جبکہ عید تعطیلات کے فوری بعد فلور ملز کو سرکاری گندم کی فروخت کا آغاز کردیا جائے گا۔ گزشتہ روز ہونے والی میٹنگ میں سیکریٹری انڈسٹریز پنجاب گندم کی قیمت 1300 روپے مقرر کرنے کے معاملے پر چیف سیکریٹری اور دیگر حکام کو غلط اعدادوشمار فراہم کرتے رہے اور روٹی، نان کی قیمت میں ایک روپے اضافے کے متعلق اپنے دعوے کو اعدادوشمار کے ساتھ ثابت نہیں کر سکے جس پر انہیں واضح کیا گیا کہ وہ 1300 روپے قیمت مقرر کرنے کا معاملہ بھول جائیں، حکومت کا کام عوام اور مارکیٹ دونوں کے مفاد میں تمام حقائق مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔

چیف سیکرٹری نے بتایا کہ1300 روپے قیمت مقرر کرنے سے حکومت کو اس پر عملدرآمد کرانے کیلئے غیر معمولی اقدامات کرنا اور وسیع آپریشنل اخراجات برداشت کرنا ہوں گے کیونکہ یہ غیرحقیقی قیمت ہے جس وجہ سے گندم اور آٹا پنجاب سے باہر سمگل کیا جائے گا۔ ایوان وزیراعظم میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں جہانگیر ترین، وزیر خوراک سمیع اللہ، وزیر زراعت نعمان لنگڑیال، چیف سیکرٹری یوسف نسیم کھوکھر، زراعت، خوراک، صنعت کے سیکرٹریز، ڈائریکٹر فوڈ اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

اس موقع پر صوبے میں گندم اور آٹے کی دستیابی اور قیمتوں پر غور کیا گیا۔ 2 گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں شرکا کو بتایا گیا کہ اس وقت اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 1390 سے 1430 روپے فی من جبکہ آٹا کی قیمت 780 سے 820 روپے تک ہے اور اوسط قیمت 790 روپے تصور کی جارہی ہے۔ عوام کو آٹے کی دستیابی میںکوئی دشواری نہیں اور وافر مقدار میں آٹا موجود ہے۔ اجلاس میں سرکاری گندم کی قیمت فروخت پر بھی مشاورت کی گئی۔ جہانگیر ترین، صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری متفق تھے کہ عوام 810 روپے میں بخوشی آٹا خرید رہے ہیں اور مارکیٹ بھی مستحکم ہے، ایسے میں قیمت1300 روپے قیمت مقرر کرنا مارکیٹ کو مصنوعی طریقہ سے کنٹرول کرنا ہوگا۔

جس کی وجہ سے گندم اور آٹا پنجاب سے باہر جانے سے روکنے کیلئے انتظامی سطح پر بہت محنت کرنا ہوگی جبکہ عوام کو اس قیمت کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوگا، مناسب یہی ہے سرکاری گندم کی قیمت فروخت 1375 روپے فی من مقرر کردی جائے جس سے آٹے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 808 روپے ہو گی تاہم کاروباری مسابقت کی وجہ سے اسکا ریٹ 795 سے 800 روپے کے درمیان ہوگا۔ شرکا کو بتایا گیا کہ محکمہ خوراک کے پاس 48 لاکھ ٹن گندم ہے۔

کسانوں سے1300 روپے فی من قیمت پر خریداری کی گئی جبکہ دیکھ بھال پر اخراجات487 روپے فی من ہیں، یوں حقیقی قیمت 1787 روپے فی من ہے، حکومت 1300 روپے میں گندم فروخت کرتی ہے تو اسے 35 لاکھ ٹن گندم کی فروخت پر 42 ارب 61 کروڑ روپے کی سبسڈی کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔1375 روپے قیمت فروخت مقرر کئے جانے کی صورت میں آٹا تھیلا کی پرچون قیمت 808 روپے ہوجائے گی جبکہ حکومت کو 36 ارب روپے کی سبسڈی دینا ہو گی۔ ذرائع کے مطابق سیکرٹری انڈسٹریز پنجاب طاہر خورشید قیمت 1300 روپے مقرر کرنے پر اصرار کرتے رہے۔

ان کا موقف تھا کہ 1375 روپے قیمت مقرر کرنے سے روٹی ایک جبکہ نان 2 روپے مہنگا ہو جائے گا تاہم دیگر شرکاء نے انکا موقف تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ 1375 روپے قیمت مقرر کرنے سے روٹی کی قیمت میں 10 سے 12 پیسے کا فرق آرہا ہے جبکہ حکومت تندوروں پر سوئی گیس سبسڈی دیکر فی روٹی 40 پیسے کا ریلیف دے چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے گندم مصنوعات کی ایکسپورٹ پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا جس پر انہیں کہا گیا کہ حکومت دسمبر میں اس پر غور کرے گی۔