سستی بجلی کے پاور پلانٹس نہ چلنا زیادتی ہے، جواب دینا ہو گا، قائمہ کمیٹی


سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پاور ڈویژن کو بتایا گیا کہ اس سال بجلی کی پیداوار 23ہزار میگاواٹ کو کراس کیا ہے اگلے سال 26ہزار میگاواٹ تک جائیں گے، گزشتہ سال 19ہزار پر تھی، خیبرپختونخوا میں سولہ فیڈر کو حال ہی میں بجلی کی چوری سے صاف کیا ہے، پنجاب میں بھی سمز اور سافٹ ویئر کے ذریعے بجلی چوری کی جاتی ہے، زیادہ چوری ڈومیسٹک، زراعت اور کمرشل میں ہوتی ہے، قائمہ کمیٹی کے ارکان نے منگلا پاور پلانٹ کا ٹرانسفارمر خراب ہونے کا سخت نوٹس لیا اور کہا کہ سستی بجلی کے پاور پلانٹس نہ چلنا زیادتی ہے اس کا جواب دینا ہو گا۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس منگل کو چیئرمین کمیٹی سنیٹر فدا محمد کی سربراہی میں پارلیمینٹ ہاؤس میں ہوا، اجلاس میں ممبران کمیٹی سینیٹرز شبلی فراز، نعمان وزیر، محمد اکرم، آغا شازیب درانی اور دلاور خان کے علاوہ وفاقی سیکرٹری پاور ڈویژن، وزارت اور کے الیکٹرک کے حکام نے شرکت کی۔ وفاقی سیکرٹری پاور ڈویژن نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہائیڈل سے اوسطاً پیداوار 7206میگاواٹ ہے، تربیلا اور منگل سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، تربیلا ٹنل تھری نے بھی کام شروع کر دیا ہے۔