ملک میں تربیت یافتہ افرادی قوت کا فقدان, سی پیک اسامیوں میں تناسب صرف 38فیصد


آئندہ تکنیکی شعبوں میں ملازمتوں کے زیادہ مواقع پیدا ہونے کے امکان ،ہنر مند تربیت فراہم کرنے والے اداروں کا کرداراہمیت اختیار کرگیا ،سینٹر آف ایکسی لینس

ملک میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی قلت کے باعث پاکستان سی پیک منصوبے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اسامیوں سے خاطر خواہ استفادہ نہیں اٹھا سکا ہے ،اب تک اس منصوبے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اسامیوں میں پاکستانی کارکنوں کا تناسب 38فیصد سے بھی کم رہا ہے ۔سی پیک سینٹر آف ایکسی لینس کے ایک ورکنگ پیپر کے مطابق پاکستان میں سی پیک منصوبوں کے تعمیراتی اور آپریشنل مراحل کے دوران چینی اور پاکستانی کارکنوں کا تناسب 59اور 38فیصد کا ہے جب کہ مستقبل میں زیادہ تکنیکی شعبوں میں آنے والے ملازمتوں کے مواقع کے باعث افرادی قوت کی قلت کے پیش نظر اس فرق میں مزید اضافہ دیکھا جاسکتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق چینی فرموں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ خاصی تعداد میں چین سے ہی ورکرز ساتھ لے کر آتی ہیں جیسا کہ بیلٹ اینڈ روڈ کے دوسرے ممالک مثلاً سری لنکا اور بنگلہ دیش میں چین سے خاصی تعداد میں ورکرز کی آمد دیکھی گئی ۔سی پیک سینٹر آف ایکسی لینس کے مطابق سی پیک منصوبے کے نتیجے میں پاکستان میں آئندہ15برس میں 8لاکھ نئی اسامیاں پیدا ہونے کے امکانات ہیں،تاہم پاکستان میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی قلت کے باعث مقامی کارکنوں کے ان مواقع سے استفادہ کرنے کے تناسب میں مزید کمی بھی متوقع ہے ۔رپورٹ کے مطابق سی پیک منصوبے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مستقبل قریب میں زرعی پراسیس کی ڈیجیٹائزیشن /میکنائزیشن اور معیشت کے مالی و ٹیکنالوجی والے شعبہ جات میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات ہیں،لہٰذا پاکستان میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی اشد ضرورت ہے ۔اس سلسلے میں نجی ادارے امن ٹیک اور ٹیوٹا سمیت ہنر مند تربیت فراہم کرنے والے دیگر اداروں کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کرین آپریٹرز کے شعبے میں بھی پاکستانی نوجوانوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے جب کہ ایگری ٹیک اور انفو ٹیک کے شعبہ جات میں بھی تربیت یافتہ افرادی قوت کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے ۔