موسمی مکئی کی کاشت بروقت مکمل کریں ،محکمہ زراعت پنجاب


محکمہ زراعت پنجاب کے زرعی ماہرین نے کاشتکاروں سے کہا ہے کہ وہ موسمی مکئی کی کاشت بروقت مکمل کریں ۔ مکئی کی کاشت کے لیے بھاری میرا زمین جو پانی کو بخوبی جذب کرسکے اور جس میں نامیاتی مادہ وافر مقدار میں موجود ہوں نہایت موزوں ہے۔ ایک ہی کھیت میں بار بار مکئی کاشت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس طرح فصل میں اگنے والی جڑی بوٹیاں مستقل حیثیت اختیار کرجاتی ہیں ۔

زمین کی تیاری کرتے وقت دو سے تین مرتبہ ہل چلا کر سہاگہ دینے کے بعد زمین کو نرم اور بھر بھرا کریں بعدا ازاں ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل ضرور چلائیں۔ اس کے بعد رائونی کرکے مکئی کی بوائی کے لیے دو سے تین مرتبہ عام ہل چلا کر زمین تیار کریں۔ انہوں نے بتایا کہ فاسفورس اور پوٹاش کی پوری مقدار جبکہ نائٹروجن کی پہلی قسط جو کہ آبپاش علاقوں میںسنتھٹیک اقسام کے لیے ڈیڑھ بوری ڈی اے پی اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ جبکہ دوغلی اقسام کے لیے دو بوری ڈی اے پی اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈالیں۔

وٹوں پر کاشت کے لیے 8سی10کلوگرام جبکہ بذریعہ سنگل روکاٹن ڈرل (صرف بارانی علاقی) 12سے 15کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔ اگیتی 2002، ایم ایم آر آئی ییلو اور ملکہ 2016سنتھٹیک اقسام جبکہ وائی ایچ 1898،ایف ایچ 1046اور ایف ایچ 949مکئی کی دوغلی اقسام کاشت کریں۔ انہوں نے بتایا کہ موسمی مکئی کی کاشت کا موزوں وقت پنجاب کے علاوہ راولپنڈی ڈویژن کے بارانی اور پہاڑی علاقوں میں شروع جولائی سے وسط اگست تک ہے۔

جبکہ سبزبٹھوں کے لیے مکئی اگست کے آخر تک کاشت کی جاسکتی ہے۔ علاوہ ازیں مکئی کیسنتھٹیک اقسام کو 10اگست سے پہلے کاشت کریں۔ آبپاش علاقوں میں مکئی کی کاشت کے لیے اڑھائی فٹ کے فاصلہ پر شرقاً غرباً وٹیں بنائی جائیں اور ہلکا پانی لگانے کے فوراً پانی ریز پر پہنچنے سے پہلے دوغلی اقسام کو 7انچ کے فاصلہ اورسنتھٹیک اقسام 8سی9انچ کے فاصلہ پر بذریعہ چوپا کاشت کریں۔ آبپاش علاقوں میں موسمی مکئی کو بوائی کے بعد دوسرا پانی 4سی5دن بعد ضرور لگائیں تاکہ اگائو اچھا ہوسکے۔