ٹیکسٹائل ملز اور حکومت کے مذاکرات میں ڈیڈ لاک، پنجاب کے کئی شہروں میں ہڑتال


آل پاکستان ٹیکسٹائل پراسیسنگ ملز ایسوسی ایشن اور حکومت کے مابین مذاکرات میں ڈیڈ لاک آگیا جب کہ دوسری جانب ماربل انڈسٹری جی ایس ٹی کے خلاف ہڑتال اور احتجاج پر 2 دھڑوں میں بٹ گئی۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل پراسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق فیصل آباد ٹیکسٹائل پراسیسنگ انڈسٹری اور حکومت کے مابین 4گھنٹے اجلاس نتیجہ خیز نہ ہوسکا، حکومت نے آئندہ اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا ہے تاہم ٹیکسٹائل پراسیسنگ انڈسٹری کے مطالبات پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل پراسیسنگ انڈسٹری بدستور ملک گیر سطح پر بند رہے گی۔

ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 8جولائی کو ہونے والے اجلاس میں تقریباً تمام مل مالکان نے شرکت کی اور اپنی رائے کا اظہار کیا۔ بحث و مباحثے کے بعد فیصلہ کیا گیا ٹیکسٹائل پراسیسنگ انڈسٹری بدستور پورے پاکستان میں بند رہے گی اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ کیونکہ پارٹیوں نے یکم جولائی سے نئے ریٹ پر اپنے پروگرام روک دیے ہیں اور اپنے پروگرام ڈائنگ یا پرنٹ کرانے سے منع کردیا ہے اس وجہ سے ٹیکسٹائل پراسیسنگ انڈسٹریز بدستور بند رہیں گی۔

دریں اثنا ماربل پر جی ایس ٹی کے خلاف ہڑتال اور احتجاج پر ماربل انڈسٹری دو دھڑوں میں بٹ گئی ہے۔ پاکستان ماربل ایسوسی ایشن نے جی ایس ٹی کے خلاف 9جولائی سے 5 روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

آج منگل کو اسلام آباد میں ایف بی آر کے صدر دفتر کے باہر احتجاج کا بھی اعلان کیا گیا ہے تاہم آل پاکستان ماربل مائننگ، پراسیسنگ ، ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال اور احتجاج سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

آل پاکستان ماربل مائننگ، پراسیسنگ، ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ ثناء اﷲخان نے ہڑتال سے لاتعلقی اور ماربل فیکٹریاں کھلی رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس کے بارے میں حکومت سے بات چیت جاری ہے۔ ماربل فیکٹریاں بجلی کے بلوں پر 42ٹیکس دے رہی ہیں۔کانوں اور پراسیسنگ فیکٹریوں کو سیلز ٹیکس کے نظام سے آگہی دینے میں وقت درکار ہے۔

ایسوسی ایشن نے حکومت کو تجویزدی ہے کہ جی ایس ٹی کے دائرے میں کانوں اور پراسیسنگ یونٹس کو شامل کرنے کے لیے وقت دیا جائے، اس ضمن میں حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور وزیر اعظم کے مشیر حماد اظہر اور ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی سے ملاقات کرکے معاملہ بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے بجٹ2019 کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ہفتہ 13جولائی کو ملک بھر میںمکمل شٹرڈاؤن ہڑتال ہو گی۔ گزشتہ روز یہاں سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق انھوں نے کہا کہ حکومت نے ہمارے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا تاجر تنظیموں نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ13جو لائی کو ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی جا ئے گی۔

اسلام آباد سے این این آئی کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے بھی13 جولائی کو ہڑتال کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ 40 ہزار روپے کی سیل پر گاہک کے شناختی کارڈ لینے کی شرط ختم کی جائے۔

آل پاکستان سیمنٹ ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے مسائل کے حل کی یقین دہانی کے بعد ہڑتال ختم کردی۔ فیصل آباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق فیصل آباد کی تاجر تنظیموں نے صوبائی وزیر اسلم اقبال اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی سے ملاقات کے بعد آج ہڑتال کی کال واپس لے لی۔

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور صوبائی وزیر اسلم اقبال نے کہاکہ شناختی کارڈ کی شرط کے بارے میں30 اگست تک رعایت دی ہے۔ شبر زیدی نے کہاکہ مہنگائی کی بڑی وجہ مڈل مین ہے۔

قبل ازیں سپریم انجمن تاجران اور کلاتھ بورڈکی کال پر فیصل آباد کے آٹھوں بازاروں، سوتر منڈی اور کپڑا مارکیٹوں میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا۔گوجرانوالہ سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق سیلز ٹیکس کے خلاف انجمن تاجران کلاتھ بورڈکی اپیل پر کلاتھ مارکیٹ سے منسلک تمام بازار گزشتہ روز کی طرح آج بھی بند رہیں گے۔ خیبر سے آئی این پی کے مطابق17 فیصد ٹیکس کے نفاذکے خلاف قبائلی اضلاع میں35 اسٹیل ملز بند ہیں۔

صدر آل فاٹا اسٹیل ملزایسوسی ایشن نے ٹیکس واپس نہ لینے کی صورت میں صوبائی اسمبلی کے باہر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ مردان میں ماربل انڈسٹری کے مالکان اور مزدور بھی سیلز ٹیکس میں اضافے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، مظاہرین کا کہنا تھا کہ صوبے میں ماربل کے کارخانے9 روز سے بند ہیں اور حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی۔