زیرو ریٹنگ کا خاتمہ،ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری شدید متاثر


ہول سیلرز نے فیکٹریوں میں کپڑے کی پروسیسنگ اور ڈائنگ کرانا بند کردی

ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری سے وابستہ صنعتکاروں،مقامی کپڑے کے ہول سیلرز اور ریٹیلرز کا کاروبار نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکسٹائل پر زیرو ریٹنگ کی سہولت ختم کیے جانے اور17فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ سے ختم ہوکر رہ گیا ہے ،فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں جبکہ ہول سیلرز نے فیکٹریوں میں کپڑے کی پروسیسنگ اور ڈائنگ کرانا بند کردی ہے ۔پروسیسنگ انڈسٹری مالکان سیلزٹیکس کی شرح کو 31جولائی تک مؤخر کرنے اورکپڑے کے تاجروں نے فکسڈ ٹیکس کے نفاذ کا مطالبہ کردیا ہے ۔ ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے ریجنل چیئرمین عارف لاکھانی کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس میں زبیرموتی والا،یونس بشیر، جاوید بلوانی، اقبال لاکھانی ، اشرف، اقبال عربی،امجدجلیل موجود تھے۔ اجلاس میں ایک قراردادبھی متفقہ طور پر منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت شناختی کارڈ کی طرز پرسیلزٹیکس کے نفاذ کو بھی31 جولائی تک مؤخرکرے۔