بیس 20فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ، ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز بند ہونا شروع


پیداواری لاگت میں یکدم 40فیصد اضافہ دنیا کی کوئی صنعت برداشت نہیں کرسکتی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو انڈسٹری دیگر ممالک منتقل ہوجائے گی، عارف لاکھانی ودیگر

یکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کے ریجنل چیئرمین عارف لاکھانی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت پر 20 فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے پاس نئے آرڈرز آنا بند ہوگئے اور متعدد فیکٹریاں بند ہوگئی ہیں۔سائٹ ایریا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عارف لاکھانی،زبیر موتی والاو دیگر نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملزکے کسٹمرزخریدار20 فیصد سیلزٹیکس دینے کو تیار نہیں،ہمارے پاس نئے آرڈرز آنا بند ہوگئے ہیں، حکومت پہلے ہی ہمارے ریفنڈزدبا کر بیٹھی ہے ،لہٰذا نئے ریفنڈز بھی ملنے کے امکانات نہیں ہیں،ملک بھر میں ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز بند ہونا شروع ہوگئی ہیں،اگر یہی حالات رہے تو مشکلات مزید بڑھ جائیگی۔زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ اتنے برے حالات ہم نے کبھی نہیں دیکھے، پیداواری لاگت میں یکدم40فیصد اضافہ دنیاکی کوئی صنعت برداشت نہیں کرسکتی ہے ،غیر یقینی صورتحال کے باعث کاروباری سرگرمیاں منجمدہوگئی ہیں،یہی حال رہا تو ہمارے ملک کی برآمدات تیزی سے گر جائیں گی،ملک میں700 سے زائد پروسیسنگ ملز ہیں جواس وقت بند ہوچکی ہیں، انڈسٹری سے وابستہ8لاکھ افراد کا روزگار خطرے میں پڑگیاہے ،ڈالر کے اتار چڑھاؤ نے بھی معاملات مزید خراب کردیے ہیں اوربرآمدکنندگان صنعتکار نئے آرڈرز لینے سے کترا رہے ہیں،صورتحال بہتر نہ ہوئی تو انڈسٹری بنگلہ دیش ودیگر ممالک منتقل ہونا شروع ہوجائیگی ۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف سے ملاقات میں بھی ہم نے یہی سفارشات ان کے سامنے رکھی تھیں،کسٹمرز یکم جولائی سے 40فیصداضافہ شدہ لاگت دینے کیلئے تیار نہیں ہیں،یکم جولائی پروسیسنگ ملز چلانے والوں کواپنی جیب سے 40فیصد اضافی لاگت کی ادائیگی کرنی پڑے گی،حکومت نے سیلزٹیکس کی شرح بہت زیادہ مقرر کی ہے ،کوئی صنعتکارجان بوجھ کر اپنی صنعت بند نہیں کرنا چاہتا،حکومت ملک کی ترقی میں ہمیں شراکت دار بنانے کا موقع فراہم کرے ۔