تھوک مارکیٹوں میں چینی کی وافر سپلائی , ذخیرہ اندوز مافیا کا قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ


تھوک مارکیٹوں میں چینی کی وافر سپلائی کے باوجود مارکیٹ میں موجود ذخیرہ اندوز مافیا کی جانب سے قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے ،کرشنگ سیزن ختم ہوتے ہی ان ‘‘فورسز’’ نے طلب و رسد کوبنیادبنا کر چینی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا شروع کر دیا ، پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت گوداموں میں ملکی ضرورت سے زائدچینی پڑی ہے ، آئندہ کرشنگ سیز ن سے پہلے ملک بھر کی مجموعی ضرورت27 لاکھ ٹن جبکہ گوداموں میں 32 لاکھ ٹن چینی موجود ہے جو ملکی ضرورت سے 5 لاکھ ٹن زیادہ ہے ، دوسری جانب اس وقت چینی کا ایکس مل ریٹ 61 سے 62 روپے فی کلو ہے اور پنجاب میں گنے کی امدادی قیمت 180 روپے فی من کے مطابق شوگر ملز مالکان اور حکومت کے درمیان ایکس مل قیمت 63 روپے فی کلو تک پر اتفاق ہو چکا ہے ، گزشتہ روز نمائندہ دنیا کی جانب سے شوگر مرچنٹس کے رئیل ٹائم ایکس مل ریٹس کا جائزہ لیا گیا جس میں قیمت 63 روپے سے کم تھی، لیکن دوسری جانب تھوک اور پرچون کی سطح پر سپلائی کا بہانہ بنا کر شوگر ڈیلرز قیمتوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ شوگر انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق چینی کی قیمتوں میں اضافہ کا ذمہ دار ملز مالکان کو ٹھہرانا درست نہیں کیونکہ شوگر انڈسٹری مکمل طور پر ریگولیٹڈ انڈسٹری ہے ، گزشتہ طویل عرصے سے شوگر ملیں چینی اپنی پیداواری لاگت سے بھی کم قیمت پر فروخت کر رہی ہیں ، رابطہ کرنے پر شوگر ملز ایسوسی ایشن کے سینئر ممبر نے بتایا کہ ملک بھر میں چینی کی پیداوار سال کے 365 دن میں صرف 100 سے 120 دن ہوتی ہے اور اسی عرصے میں تیار کی گئی چینی پورا سال چلتی ہے ، اس وقت مارکیٹ میں چینی کا کسی قسم کا بحران موجود نہیں نہ ہی شوگر ملیں چینی کی قیمتوں میں مبینہ اضافہ کی ذمہ دار ہیں۔