یارن مرچنٹس کی زیروریٹنگ کی مخالفت


پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن(پائما)سندھ بلوچستان زون کے چیئرمین ثاقب گڈ لک نے 5زیرو ریٹڈ برآمدی سیکٹرز کیلئے ممکنہ طور پر زیرو ریٹنگ سہولت ختم کرنے کو صنعتوں کی تباہی کاباعث قرار دیتے ہوئے اس قسم کے کسی بھی اقدام کی مخالفت کی ہے ۔گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں ثاقب گڈلک نے حکومت کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت ایس آراو1125کوبرقرار رکھتے ہوئے ’’نوٹیکس نوریفنڈ‘‘کی پالیسی اختیار کرے ۔حکومت ایک جانب کاروبار کو آسان بنانے اوربرآمدات کو فروغ دینے کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف صنعتوں کیلئے مشکلات پیدا کی جارہی ہے ۔ حکومت اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے اپنی معاشی سمت متعین کرے تاکہ کاروباری وصنعتی سرگرمیوں کو فروغ دے کر ملک کو اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ 5برآمدی سیکٹرز سے زیرو ریٹنگ ختم کرنے سے برآمدات پرتباہ کن اثرات مرتب ہوں گے ،مقامی صنعتیں تباہ ہونے کے ساتھ سرمایہ ملک سے باہر منتقل ہو جائے گا ۔یہ کہاں کی دانشمندی ہے کہ‘‘ پہلے ٹیکس لو اور پھر واپس کردو’’لہٰذا جب ٹیکس واپس ہی کرنا ہے تو بہتر ہے ٹیکس نہ لیا جائے کیونکہ حکومت کو برآمدکنندگان کے پہلے ہی 200ارب روپے سے زائد کے ریفنڈز دینے ہیں اور حکومت کے پاس ادائیگی کیلئے پیسے بھی نہیں ہیں ۔چیئرمین پائماسندھ بلوچستان زون نے حکومت کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ صنعتوں اور کمرشل امپورٹرز کیلئے ٹیکس میں موازنہ نہیں ہونا چاہیے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک کے بہتر تر مفاد میں برآمدی سیکٹر کیلئے زیرریٹنگ سہولت ختم نہ کی جائے اور صنعتوں کو فروغ دینے کیلئے سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔