بجلی کی پیداوار کیلئے قابل تجدید توانائی ذرائع کا فروغ ناگزیر


وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتوں کو اس کی اہمیت سمجھنے کی ضرورت ہے ،ماہرین

ماہرین نے کہا ہے کہ حکومت توانائی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دے اور قومی مفاد کیلئے اس کام کی منصوبہ بندی کی جائے ۔ 30 جون 2018 تک بجلی کی پیداوار 34 گیکا واٹ تھی اور اس میں 4.2فیصد قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے بجلی شامل ہے ۔منصوبے کے تحت اس حصے کو مزید بڑھا کر 2030 تک 30 فیصد بجلی قومی گرڈ میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سولر انرجی کے وسیع مواقع ہیں،حکومت سولر انرجی کا استعمال چھوٹے پیمانے سے فروغ دے سکتی ہے اور اس کیلئے پہلے وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتوں کے دفاتر منتقل کیے جاسکتے ہیں جس طرح دیگر ملکوں میں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتوں کو اس کی اہمیت سمجھنے کی ضرورت ہے ، انرجی کی یہ تبدیلی اور اسے فروغ دینے کے لیے مقامی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اشتراک ضروری ہے تاکہ اسٹیک ہولڈرز کے اس ضمن میں کردار واضح ہوسکیں۔