سونے کی قیمت5سال میں 24ہزار300روپے بڑھ چکی


گزشتہ 5برس کے دوران سونے کی قیمتوں میں 24 ہزار 300 روپے تک کا ہو شربا اضافہ ہوا، پانچ برس قبل 22مئی 2014کو 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 47 ہزار روپے تھی جو 22 مئی 2019 کو بڑھ کر 71300 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اسی طرح مذکورہ عرصے میں 22 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں بھی 22 ہزار275 روپے کا ہوشر با اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی قیمت 43083 روپے سے بڑھ کر 65 ہزار358 روپے پر آ گئی۔سال 2015-16 کے دوران سونے کی قیمتوں میں تقریباً 2350 روپے اور 2016-17 کے دوران صرف 900 روپے فی تولہ کا اضافہ ہوا، تاہم سال 2017-18 میں اس کی قیمت 7 ہزار روپے فی تولہ تک بڑھی جبکہ سب سے زیادہ اضافہ گزشتہ ایک برس کے دوران ہوا، اس طرح موجودہ حکومت کے پہلے برس کے دوران سونے کی فی تولہ قیمتوں میں 15ہزار روپے تک کا اضافہ ہوا۔ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اس شرح سے اضافہ نہیں ہوا تاہم پاکستان میں اس کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ سونا بھی درآمدی آئٹم ہے جس کی قیمت ڈالر کے ساتھ براہ راست جڑی ہے ،لہٰذا ڈالر کی مہنگائی کا اثر اس پر بھی ہو رہا ہے اور سونے کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں ، دوسری جانب صرافہ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے سے کاروبار بھی کم ہو گیا ہے ، غریب آدمی کیلئے اپنے بچوں کی شادی پر سونا خریدنا اب صرف ایک خواب بن چکا ہے