کاشتکارکپاس کی منظور شدہ اقسام کی کاشت 31مئی تک مکمل کر لیں‘محکمہ زراعت


محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے ہدایت کی ہے کہ کپاس کے کاشتکار گلابی سنڈی کے کنٹرول کے لیے چھڑیوں کو فوراً الٹ پلٹ کریں اور کچرے کو اکٹھا کر کے تلف کریں تاکہ بچے کچھے ٹینڈوں میں موجود گلابی سنڈی کو ختم کیا جا سکے‘کپاس کی منظور شدہ بی ٹی اقسام کی مخصوص علاقوں میں کاشت 31مئی تک مکمل کریں‘کپا س کی منظور شدہ بی ٹی اقسام آئی یوبی 2013، ایف ایچ 142،ایم این ایچ 886، ایف ایچ لالہ زاراوربی ایس 15 اور دیگر اقسام کو مخصوص علاقوں میں بروقت کاشت کریں‘ علاوہ ازیں کپاس کی دوسری منظور شدہ بی ٹی اقسام کا انتخاب اپنے علاقے ، زمین کی قسم، پانی کی دستیابی اور محکمہ زراعت (توسیع) کے مقامی عملہ کے مشورہ سے کریں۔

منظور شدہ بی ٹی اقسام کا معیاری ، تندرست، خالص اور اچھے اُگائو والا(75فیصد سے زیادہ اُگائو) 8کلوگرام بیج فی ایکڑ سفارش کردہ پھپھوندی کش اور کرم کش زہر لگا کر کاشت کریں ‘ترجمان نے مزید بتایا کہ پودوں کی مطلوبہ تعدادبرقرار رکھنے کے لیے ضرورت سے زائد کمزور پودے چھدرائی کر کے نکال دیں‘چھدرائی کا عمل بوائی سے 20تا25دن کے اندر یا پہلے پانی سے پہلے یا خشک گوڈی کے بعد ہر حالت میں ایک ہی دفعہ مکمل کیا جائے۔

مئی کاشتہ فصل کے لیے پودوں کی تعداد35ہزار فی ایکڑ رکھیں‘اوسط زمین میں بی ٹی اقسام کے لیے مرکزی علاقوں میں 35,90اور 38جبکہ ثانوی علاقوں میں 35,80اور 30بالترتیب نائٹروجن ، فاسفورس اور پوٹاش کلوگرام فی ایکڑ استعمال کریں۔کاشتکار کھیتوں میں پائی جانے والی جڑی بوٹیوں کو بروقت تلف کریں۔