مارچ میں مہنگائی 5 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، سرکاری اعداد و شمار


رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ جولائی تا مارچ کے دوران مہنگائی 6.79 فیصد رہی جبکہ مارچ کے دوران مہنگائی کی شرح 9.41 فیصد ہوگئی۔ فروری میں مہنگائی کی شرح 8.21 فیصد تھی اور مارچ 2018 میں مہنگائی میں اضافہ کی شرح 3.2 فیصد تھی اور صرف مارچ 2019 کے دوران مہنگائی کی شرح 9.41 فیصد تک پہنچ گئی ہے، ٹماٹر 315 فیصد مہنگا ہوا۔

وفاقی ا دارہ شماریات کی جانب سے جاری اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ فروری کے مقابلے میں مارچ میں مہنگائی میں ایک اعشاریہ 42 فیصد اضافہ ہوا، مارچ میں مہنگائی کی شرح 9 اعشاریہ 41 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ جولائی سے مارچ تک مہنگائی کی شرح 6 اعشاریہ 79 فیصد رہی ۔

ہری مرچ کی قیمت میں 141 اعشاریہ 73 فیصد اضافہ ہوا جب کہ پیاز 39 اعشاریہ 27 فیصد مہنگے اور مٹر کی قیمت میں 27 فیصد اضافہ ہوا ۔ٹماٹر 18 فیصد، چکن اور کیلے 15 فیصد اور دال مونگ کی قیمتوں میں 12 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ریل کرایوں میں 19 اعشاریہ 30 فیصد ، جہاز کے کرایوں میں 13 اعشاریہ 41 فیصد اضافہ ہوا اور ہائی اسپید ڈیزل 4 اعشاریہ 45 فیصد مہنگا ہوا ۔ مارچ 2019میں 2018 کے مقابلہ میں ٹماٹر 315 فیصد، سبز مرچ 151 فیصد، مٹر 54 فیصد اور کھیرے 45 فیصد ، اندرون شہر بسوں کے کرائے 47 فیصد مہنگے ہوئے۔

سی این جی کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے اور مارچ 2019 میں 2018 کی نسبت ڈیزل اور گھریلو سلنڈر 14 فیصد مہنگے ہوئے۔ اشیائے خورونوش میں سے دال مونگ 22، چینی 18 اور گوشت 13 فیصد مہنگا ہوا۔