متنازع مہمند ڈیم منصوبے کی گرد تاحال نہ بیٹھ سکی


اسلام آباد وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی کو ملنے والے3 ارب 90 کروڑ روپے کا مہمند ڈیم متنازع معاہدے کی گرد تاحال نہ بیٹھ سکی۔

مہمند ڈیم منصوبہ ن لیگ کی سابق حکومت میں 2017ء میں شروع کیا گیا تھا، واپڈا نے نومبر 2017ء میں ڈیم کی تعمیر کیلئے ٹینڈر دیا، جس کے بعد ڈیسکون نے چینی کمپنی سی جی جی سی کیساتھ مشترکہ جبکہ ایف ڈبلیو او اور پی سی نے بھی مشترکہ طورعام انتخابات کے ایک دن بعد 26 جون 2018ء کو مجوزہ لاگت پر مبنی دستاویزات جمع کرائیں۔

واپڈا نے تکینکی بنیادوں پر ایف ڈبلیو او کا ٹینڈر مسترد کرتے ہوئے ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ ڈیسکون کودیدیا جو وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد کی کمپنی ہے۔

ذرائع نے ایکسرپس ٹریبیون کے بتایا کہ عبدالرزاق داؤد حال ہی میں اقتصادی امور کے اس اجلاس سے اٹھ کر جانے لگے جس میں مہمند ڈیم پر بات ہوئی۔