چاول کو برآمدی صنعت بنانے پر غور


حکومت نے چاول کی پیداوار اور بر آمدات میں اضافے کے لیے رائس سیکٹر کو بر آمدی صنعت کا درجہ دے کر زیرو ریٹنگ سہولتیں فراہم کرنے پر غور شروع کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق اس وقت حکومت نے پانچ شعبہ جات کو بر آمدی صنعت کا درجہ دے کر زیرو ریٹنگ کی سہولت فراہم کر رکھی ہے ، ان میں ٹیکسٹائل، لیدر، اسپورٹس گڈز، سرجیکل گڈز اور کارپٹ کے شعبے شامل ہیں۔ زیرو ریٹنگ صنعتوں کو حکومت کی جانب سے رعایتی نرخ پر بجلی اور گیس کی فراہمی کے ساتھ خام مال کی در آمد پر ٹیکسوں و ڈیوٹی کی مد میں بھی چھوٹ دی جاتی ہے ، تاکہ برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے ۔ چاول بر آمد کنندگان کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ چاول کی صنعت کو بھی بر آمدی صنعت کا درجہ دے کر زیرو ریٹنگ سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ رائس سیکٹر کو بھی زیرو ریٹڈ شعبوں میں شامل کرنے کے لیے سمری تیار ہے ، حکومت چاول کے بر آمد کنندگان کو یقین دہانی کرا چکی ہے کہ 23 جنوری کو معاشی اصلاحاتی پیکیج کے اعلان کے بعد اس پر پیشرفت ہو سکے گی۔ رائس ایکسپورٹرز ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ رائس سیکٹر کو زیرو ریٹنگ کی سہولت ملنے سے چاول کی پیداوار اور بر آمدات میں اضافہ ہو سکے گا۔ چاول کی پیداوار میں اضافے کے لیے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے ذریعے نئی اقسام متعارف کرانے کی راہ ہموار ہو گی ، اس وقت چاول کے کاشت کار اور بر آمد کنندگان دونوں ہی زائد پیداواری لاگت کا شکار ہیں۔ چاول کی بیشتر فصل مونجی کی شکل میں مارکیٹ میں فروخت کر دی جاتی ہے ۔ ملک سے چاول کی بر آمد نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کے حصول کا باعث بنے گی بلکہ پاکستانی چاول دنیا میں ملکی برانڈ کی پہچان اور مقبولیت کا بھی باعث ثابت ہو گا۔ رائس ایکسپورٹرز کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد اور وزیر خزانہ اسد عمر کی معاشی ترقی کے لیے ترجیحات انتہائی واضح ہیں۔ آئندہ چھ ماہ سے ایک سال کے دوران ملک کی خوشحالی کی راہ متعین ہو گی۔