پاکستان میں ہر پانچویں بھینس اور گائے حیوانے کی سوزش کا شکار ہے، ماہرین


جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے شعبہ کلینیکل میڈیسن اینڈ سرجری کے ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں تقریباً ہر پانچویں بھینس اور گائے حیوانے کی سوزش کا شکار ہے۔ایک ملاقات کے دوران انہوںنے بتایا کہ حیوانے کی سوزش کا بنیادی سبب بیکٹیریا ہے جو تھن کے سوراخ کے راستے حیوانے میں داخل ہو کر اس کی بافتوں میں اپنا مسکن بنا لیتا ہے نیزیہ جراثیم اور ان سے نکلنے والے مادے حیوانے کی بافتوں کو نقصان پہنچا تے ہیں جس کے نتیجہ میں دودھ کی پیداوار کم ہو جا تی ہے اور اس کے معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سوزش حیوانا کی دو اقسام ہیںجن میں پہلی واضح سوزش حیوانا جبکہ دوسری مخفی سوزش ہے ۔انہوںنے بتایا کہ واضح سوزش کی علامات میں ایک یا ایک سے زیادہ تھنوں اور حیوانے ، دودھ کی پیداوار میں کمی ، تیز بخار ، تھنوں کے اندر ناڑ پڑ جانا اور دودھ کا نمکین ذائقہ شامل ہیں جبکہ مخفی سوزش حیوانہ میںمتاثرہ جانور کے تھنوں ، حیوانے اور دودھ کے اندر کسی قسم کی کوئی بھی علامت یاتبدیلی دکھائی نہیں دیتی ۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے حیوانہ کی سوزش کا نہایت ہی آسان اورکم خرچ طریقہ متعارف کروایا ہے جس کے ذریعے مویشی پال حضرات اپنے جانوروں کے حیوانوں کی سوزش کی خود تشخیص کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ کسی برتن میں ایک پائو پانی میں 3چائے کے چمچ کپڑے دھونے والاسرف پائوڈر حل کرلیں پھر جس گائے یا بھینس کے حیوانے میں مخفی سوزش کا پتہ چلانا مقصود ہو اس کے چاروں تھنوں کا دودھ سرف ٹیسٹ کٹ میں ڈال لیں اوراب ہر تھن کے علیحدہ علیحدہ دودھ میں سرف کا مذکورہ بالا پانی کی مقدار کے برابر دودھ شامل کردیا جائے ، پھر اس آمیزے کو چند لمحوں کیلئے ہلائیں ۔

انہوںنے کہاکہ جس جانور کا تھن مخفی سوزش کا شکار ہوگا سرف ملا پانی ملانے سے گاڑھا ہوجائے گا جبکہ دوسرے طریقہ کے مطابق سرف ملے پانی کے سیمپل کو زمین میں گرا دیں لہٰذاسرف ملا دودھ زمین میں جذب نہیں ہوگا جبکہ تندرست جانور کے تھن کا دودھ فوراً جذب ہوجائیگا ۔انہوں نے بتایا کہ جس جانور کے تھن میں بیماری کی تشخیص کا پتہ چل جائے اس کا دودھ انسانی استعمال کے قابل نہیں رہتا اور اس کا علاج کسی مستند ویٹرنری ڈاکٹر یا ویٹرنری ہسپتال سے کروایا جائے ۔انہوں نے بتایا کہ کسان اس ٹیسٹ کو زیادہ کارآمد اور استعمال کے لحاظ سے نہایت آسان ہونے کی وجہ سے بہترین مویشی پال و کسان دوست قرار دیتے ہیں ۔