گندم کی پیداوار میں مزید اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے، محکمہ زراعت پنجاب


محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ ملک میںآبادی کے روزبروز اضافیکے باعث گندم کی مزید پیداوار وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ گندم کی فصل سے بہتر پیداوار حاصل کرنے کیلئے اس کی کاشت کا موزوں ترین وقت 30 نومبرتک ہے۔ محکمہ زراعت کی تحقیق کے مطابق 30 نومبر کے بعد کاشت کی گئی فصل میں ہر روز کے حساب سے کمی آنا شروع ہو جاتی ہے، گندم کی کاشت میں تاخیر اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے پیداوار میں 50 فیصد تک کمی واقع ہوجاتی ہے ۔

انہوںنے کہا کہ پنجاب میں زیادہ رقبے پر گندم ، کپاس ، دھان ، مکئی اور کماد کے بعد کاشت کی جاتی ہے اس وجہ سے گندم کی کاشت میں تاخیر ہوتی ہے۔ زرعی ماہرین نے ایسے طریقے دریافت کئے ہیں جن کے ذریعے ان فصلوں کے بعد گندم کاشت کرنے کے وقت بچت ممکن ہے اور اس طرح گندم کی کاشت میں مزید تاخیر سے بچا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان طریقوں میں گندم کی کاشت کا خشک طریقہ خاص طور پر قابل ذکر ہے جبکہ دھان ،مکئی، کپاس اور کماد کی برداشت کے بعد زمین تیار کر کے گندم بذریعہ ڈریل کاشت کی جاتی ہے اور اس کے بعد کھیت کو پانی لگا دیا جاتا ہے جس سے وقت اور پانی دونوں کی بچت کی جاسکتی ہے ، ان طریقوں سے گندم کی کاشت میں تاخیر کے مسئلہ کو کسی حد تک حل کیا جا سکتا ہے اگر ناگزیر وجوہات کی وجہ سے گندم کی کاشت میں تاخیر ہوجائے تو گند م کی پچھیتی اقسام میں آبپاشی علاقوں کے لئے اجالا 2016ء ، گولڈ 2016، فیصل آباد، 2008ء ، آری 2011ء پنجاب 2011 اور آس 2011شامل ہیں، ان اقسام کی کاشت دسمبر کے اوائل تک کی جا سکتی ہے۔