زرعی شعبے میں بہتری کے باوجود پانی کی قلت کے خدشات برقرار


مالی سال 18 کے دوران زرعی شعبے میں بہتری کے باوجود پانی کی قلت کے خدشات برقرار ہیں جس کے باعث زرعی شعبے کی ترقی بھی متاثر ہونے کے امکانات ہیں۔ سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 18 میں زرعی شعبے کی ترقی کی شرح 3.8 فیصد رہی جبکہ مالی سال 17 میں ترقی کی شرح 2.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی ،مالی سال 18 میں گلہ بانی کے شعبے میں بہتری کے ساتھ ساتھ چاول ،گنے اور دیگر چھوٹی فصلوں کی پیداوار میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔فصلوں کی پیداوار میں اضافے کی وجوہات میں موافق موسمی حالات،خام مال پر دی جانے والی سبسڈی ،فصلوں کی بہترین امدادی قیمتیں اور ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال شامل ہیں جبکہ اس دوران فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔مالی سال 18 میں گندم اور چینی کی پیداوار ملکی ضرورت سے زیادہ رہی ،تاہم ان سب عوامل کے باوجود ملک میں مجموعی طور پر پانی کی قلت کے ساتھ زرعی شعبے کو بھی پانی کی کمی کے خدشات کا سامنا ہے جبکہ بارشوں میں کمی اور پانی ذخیرہ کرنے کے وسائل نہ ہونے کے باعث اس صورتحال میں فوری طور پر بہتری کے امکانات بھی دکھائی نہیں دیتے ۔رپورٹ میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پانی کی قلت کے خدشات کے باعث زرعی شعبے کی ترقی کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے ۔رپورٹ کے مطابق خریف اور ربیع کے موسموں میں آبپاشی کیلئے پانی کی دستیابی میں بالترتیب 2 اور 19 فیصد کی کمی واقع ہوئی اور کاشتکارو ں نے زیادہ تر زیر زمین پانی پر انحصار کیا ۔رپورٹ کے مطابق ملک کے بارانی علاقوں میں پانی کی دستیابی کا مسئلہ شدت اختیار کرگیا ہے ،تاہم رپورٹ میں قومی آبی پالیسی کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں پانی کی قلت کے خدشات دور کرنے کے سدباب پیدا ہوسکتے ہیں۔