گندم کی کاشت کیلئے منظور شدہ اقسام کا بیج استعمال کریں، محکمہ زراعت


محکمہ زراعت کے ترجمان نے کہا ہے کہ گندم کی پیداوار میں بارانی علاقے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں اس لئے کسی بھی وجہ سے بارانی علاقوں میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار کم ہونے سے صوبے کے مقررہ ہدف کی تکمیل مشکل ہو سکتی ہے لہٰذا کاشتکار منظور شدہ اقسام کا صاف ستھرا ، صحت مند ، بیماریوں سے پاک ، درجہ اول کا بیج استعمال کریں جبکہ بیج کے اگائو کی شرح بھی 85فیصد سے کم نہیں ہونی چاہیے۔

انہوںنے کہا کہ رواں سیزن کے دوران پنجاب میں گندم کی کاشت کا 10 فیصد حصہ بارانی اور 90فیصد آبپاش علاقوں سے حاصل کیاجائے گا جبکہ مقررہ ہدف کے مطابق ایک کروڑ 67لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پر گندم کی کاشت یقینی بنائی جائے گی تاکہ ایک کروڑ 94لاکھ ٹن سے زائد گندم کا پیداواری ہدف حاصل کیاجاسکے ۔

انہوں نے بتایاکہ بارانی علاقوں میں گندم کی کاشت 15 نومبر تک مکمل کی جا سکتی ہے جس کیلئے منظور شدہ اقسام چکوال 50، این اے آر سی 2009، بارس 2009 ، پاکستان 2013اور دھرابی 2011 ،فتح جنگ 2016، احسان 2016 ، بارانی 2017 کی منظوری دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی طرف سے گندم کی بھرپور پیداوار کے حصول کیلئے پنجاب سیڈ کارپوریشن کے ڈیلرز کے ذریعے منظور شدہ اقسام کا تصدیق شدہ بیج کاشتکاروں کو مناسب قیمت پر فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ محکمہ زراعت کا توسیعی عملہ گاؤں گاؤں جاکر کاشتکاروں کی رہنمائی اور تربیت بھی کررہا ہے۔انہوںنے کہا کہ کاشتکاروںکو گندم کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے بارے میں فنی رہنمائی اور آگاہی کے لیے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کو بھی وسیع طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ کاشتکار منظور شدہ اقسام کی بروقت کاشت اور فصل کی بہتر نگہداشت پر توجہ دے کر بھرپور پیداوار حاصل کر سکیں۔