کماد کے جن کھیتوں میں رتہ روگ کی بیماری موجود ہو وہاں سے بیج کا انتخاب ہرگز نہ کیاجائے، محکمہ زراعت


محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو کماد کی ستمبر کاشت کیلئے صحت مند ، بیماریوں اور کیڑے مکوڑوں سے پاک فصل سے بیج کا انتخاب کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ کاشتکار بیج بناتے وقت بیمار اور کمزور گنے چھانٹ کر نکال دیں نیز پیداواری فرق کو کم کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی پر بھی عملدرآمد کیاجائے تاکہ گنے کی اوسط پیداوار 626 من فی ایکڑ کی بجائے کاشتکاروں کو دیگر ترقی پسند کاشتکاروں کی طرح 2000 من فی ایکڑ پیداوار حاصل ہو سکے۔ محکمہ کے ترجمان نے کہاکہ جن کھیتوں میں رتہ روگ کی بیماری موجود ہو وہاں سے بیج کا انتخاب ہرگز نہ کیاجائے اور بیج کیلئے گنے کا اوپر والا حصہ استعمال کرنے کو ترجیح دی جائے۔انہوںنے کہاکہ کماد کی ستمبر کاشت کیلئے ستمبر کاشتہ کماد اور مونڈھی فصل کا بیج استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم کاشتکار گری ہوئی فصل سے بیج نہ لیں اور گنے کی آنکھوں کو زخمی ہونے سے بچائیں۔

انہوںنے کہاکہ بیج کیلئے گنے کو درانتی سے نہ چھیلا جائے بلکہ ہاتھوں سے کھوری اتاری جائے۔ انہوںنے کہاکہ باربرداری کے دوران کاشتکار خصوصی احتیاط برتیں اور بیج کو بوائی کے کھیت میں لاکر ہی چھیلیںنیزسموں پر کھوری یا سبز پتوں کا غلاف نہیں ہونا چاہئے وگرنہ اگائو کم ہوگا۔انہوںنے کہاکہ کاشتکار درمیانی ذرخیز زمین میں بوائی کے وقت 2بوری ڈی اے پی اور 2بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریںاسی طرح کھیلیوں میں پہلے فاسفورس اور پوٹاش کی کھادیں ڈالیں اور پھر سیاڑوں میں سموں کی دو لائنیں 8سے 9انچ کے فاصلے پر اس طرح لگائیں کہ سموں کے سرے آپس میں ملے ہوئے ہوں اور مٹی کی ہلکی سی تہہ سے ڈھانپ دیں۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار سہاگہ نہ پھیریں اور ہلکا پانی لگا دیں اور مناسب وقفہ کے بعد جب کھیلیاں خشک ہو جائیں تو دوبارہ پانی لگا دیں اور فصل کے اگنے تک حسب ضرورت آبپاشی کرتے رہیں۔