کماد کی فصل کو پاکستان کی زرعی معیشت اور شکر سازی کی صنعت میں اہم مقام حاصل ہے ،ترجمان محکمہ زراعت پنجاب


محکمہ زراعت پنجاب ریسرچ انفارمیشن یونٹ فیصل آباد نے کہا ہے کہ کماد کی فصل کو پاکستان کی زرعی معیشت اور شکر سازی کی صنعت میں اہم مقام حاصل ہے ۔ پاکستان کا شمار رقبہ اور پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر جبکہ چینی کی پیداوار میں چھٹے نمبر پر ہوتا ہے ۔۔پنجاب میں گنے کی فی ایکڑ اوسط پیداوار تقریباً 691ہے جو کہ عالمی اوسط پیداوار 706من فی ایکڑ ہے۔ پاکستان میں بہت سے ترقی پسند کاشتکار گنے کی 1500سے 2000ہزار من فی ایکڑ پیداوار حاصل کررہے ہیں جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری گنے کی ترقی دادہ اقسام بہترین پیداواری صلاحیت رکھتی ہیں اور دنیا میں کسی بھی ملک کی گنے کی پیداوار کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔

کماد کی پیداوار پر کئی قدرتی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں جن میں عرصہ کاشت بہت اہمیت کا حامل ہے۔

ستمبر کاشت کے ذریعے نسبتاً زیادہ دورانیہ دے کر پیداوار کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ کماد کی ستمبر کاشت کاموزوں وقت یکم ستمبر سے 30ستمبرتک ہے۔کاشتکار محکمہ کی ترقی دادہ اقسام کاشت کریںاور اچھی پیداوار کے حصول کے لیے بھاری میرا زمین کا انتخاب کریں جس میں پانی کا نکاس بہتر ہو اور نامیاتی مادہ بھی کافی مقدار میں پایا جاتا ہو۔ بیج کے لیے چار آنکھوں والے 13سی15ہزار سمے یا تین آنکھوں والے 17سی20ہزار سمے فی ایکڑ بیج استعمال کریں۔ یہ تعداد موٹی اقسام کا تقریباً 100سے 120من اور باریک اقسام کا 80سے 100من بیج استعمال کرکے حاصل کی جاسکتی ہے۔ کاشت میں تاخیر ہونے کی صورت میں بیج کی مقدار میں دس سے پندرہ فیصد اضافہ کرلیا جائے۔ اچھی پیداوار کے حصول کے لیے کاشتکار 69کلوگرام نائٹروجن ، 46کلوگرام فاسفورس اور 46کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ استعمال کریں۔ فاسفورس اور پوٹا ش کی سفارش کردہ تمام مقدار کاشت کے وقت سیاڑوں میں ڈالی جائے جبکہ نائٹروجنی کھاد کا ایک تہائی حصہ فصل کااگائو مکمل ہونے پر دوسرا حصہ شگوفے نکلنے پر جبکہ تیسرا حصہ فصل کو مٹی چڑھانے سے پہلے ڈالیں