خشک سالی : یورپی کسانوں کو جانوروں کیلئے چارے کی قلت کا سامنا


جنگلات میں آتشزدگی سے متعدد علاقوں میں سبزہ جل گیا،اجناس پیداوار30فیصد کم رہنے کا امکان:رپورٹ مشرقی آسٹریلیا میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں بارش سے کسانوں میں امید کی کرن پیدا ہوگئی

ماہرین نے کہا ہے کہ رواں سال شدید خشک سالی کے باعث یورپی ملکوں کے کسانوں کو جانوروں کے لیے چارے کی قلت کا سامنا ہے ۔حال ہی میں کسانوں پر کی جانے والی جائزہ سروے رپورٹ کے مطابق رواں سال یورپی ملکوں میں شدید خشک سالی کے باعث وہاں چارے کی پیداوار انتہائی کم رہی، کئی علاقوں میں گھاس کا تنکا تک نہیں اگ سکا۔مشرقی فرانس سے تعلق رکھنے والے ایک کسان جین گوئلامے ہانیکوئن نے بتایا کہ جون سے ہمارے جانوروں کے لیے کوئی چارہ نہیں، سردیوں کے دوران ان کی خوراک کا بندوبست کیسے کریں گے ۔بحیرہ روم کے کنارے واقع ملکوں نے معمولی بارشوں کے باعث کاشتکاری کا عمل سرانجام دیا تاہم شمالی یورپ میں خشک سالی کی صورتحال رہی۔سویڈن میں حالیہ موسم گرما کے دوران صدی کا سب سے زیادہ درجہ حرارت رہا جس کی وجہ سے جنگلات میں بڑے پیمانے پر آگ کے باعث متعدد علاقوں میں سبزہ جل گیا جبکہ ملک میں اجناس کی پیداوار سابق اندازوں سے کم از کم 30 فیصد کم رہنے کا امکان ہے

اگر موسم میں کچھ بہتری آئی تو جانوروں کے لیے چارے کی پیداوار ممکن ہوسکے گی۔سویڈن کے بورڈ آف ایگریکلچر کے چیف اکانومسٹ ہرالڈ سونسن نے صحافیوں کو بتایا کہ اکثر کسان موسم سرما کے دوران مویشیوں کی ضرورت کے لیے چارا سٹور کرنے میں لگے ہیں۔جرمنی میں بھی اسی طرح کی صورتحال ہے جہاں ہر 25 میں سے ایک کسان کاروبار سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے ۔ہالینڈ کی زرعی ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں چارے کی پیداوار 40-60 فیصد جبکہ اجناس کی پیداوار میں 20 فیصد تک کمی کا امکان ہے ۔