جی ڈی پی بلند ترین سطح پر نمو 5.8 فیصد ہوگئی:اسٹیٹ بینک


اسٹیٹ بینک نے مالی سال18کیلئے پاکستانی معیشت کی کیفیت سے متعلق تیسری سہ ماہی رپورٹ جاری کردی جس میں جی ڈی پی کی شرح میں اضافے کے باوجود تجارتی اور جاری کھاتوں کے بڑھتے ہوئے خسارے کو معاشی ترقی کیلئے رکاوٹ قرار دیا گیا ،رپورٹ کے مطابق مالی سال 2017-18کے دوران حقیقی جی ڈی پی میں توسیع ہوتی رہی اوریہ 13 برس کی بلند ترین 5.8 فیصد نمو حاصل کرنے میں کامیاب رہی، قرضوں کے استعمال خاص طور پر معین سرمایہ کاری قرضوں میں اضافہ ہوا، تاہم اس بہتر معاشی نمو کے ساتھ جڑواں خساروں میں اضافہ ہو ا جو معاشی ترقی کی پائیداری کیلئے مشکلات کا باعث ہے ، کپاس اور گنے میں بہتری سے زراعت کے شعبے کی کارکردگی کو گزشتہ برس سے بڑھانے میں مدد ملی، سی پیک اور سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی )کے باعث تعمیرات اور منسلکہ صنعتوں کی قابل ذکر کارکردگی کے نتیجے میں صنعتی شعبے میں نمو بلند رہی،اہم غذائی اشیا جیسے گندم، شکر اور چاول کی وافر فراہمی کے نتیجے میں غذائی مہنگائی میں کمی آئی جس سے غیر غذائی اشیا میں بلندمہنگائی کے اثر کو زائل کرنے میں مدد ملی، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے مہنگائی پر اثرات مالی سال 18کی تیسری سہ ماہی میں ظاہر ہوئے جب مہنگائی کی توقعات بڑھیں تو اسٹیٹ بینک نے جنوری 2018میں پالیسی ریٹ میں اضافہ کردیا، بیرونی شعبے میں برآمدات اور ترسیلات زر میں بحالی کے باوجود تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور ٹرانسپورٹ اور مشینری میں بلند درآمدات کی وجہ سے جاری کھاتے کا خسارہ 12.1 ارب ڈالر ہوگیا جو کسی مالی سال کی جولائی تا مارچ کی مدت کا سب سے زیادہ اضافہ ہے ، اگرچہ جولائی تا مارچ مالی سال 18کے دوران مالی رقوم کی آمد گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ تھی، تاہم یہ جاری کھاتے کے خسارے کی سرمایہ کاری کیلئے اب بھی ناکافی تھی، نتیجتاً اسٹیٹ بینک کے ذخائر مارچ کے اختتام تک کم ہوکر 11.6 ارب ڈالر ہوگئے ، نیز جولائی تا مارچ مالی سال 18کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں 9.6 فیصد کی مجموعی کمی آئی، جولائی تا مارچ میں مالیاتی خسارہ پورے سال کے ہدف 4.1 فیصد سے بڑھ کر جی ڈی پی کے 4.3 فیصد تک پہنچ گیا، جاری و ترقیاتی اخراجات میں زبردست اضافہ ہوا ، جس کی وجہ بڑی حد تک صوبائی اخراجات میں اضافہ ہے اور دوسری طرف مالی سال 18کی تیسری سہ ماہی میں ہونے والی سست نمو بھی اس بلند تر خسارے کا سبب بنی، روپے کی قدر میں کمی کے تناظر میں بلند بیرونی قرض گیری اور باز قدر پیمائی جیسے عوامل کے اثرات نے بھی حکومت کیلئے معاملات بدتر کردیے ،نمو کی موجودہ رفتار قائم رکھنے کا انحصار اندرونی اور بیرونی خسارے کے مؤثر انتظام پر ہے ، بیرونی محاذ پر ضرورت اس امر کی ہے کہ قلیل مدتی مالکاری کے حصول کے ساتھ ساختی مسائل کو حل کیا جائے ،مالیاتی اعتبار سے اخراجات میں کمی عارضی طور پر دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے جبکہ اندرونی مالیات کی درستی کی خاطر ٹیکس بنیاد کو توسیع دینے اور ٹیکس نظام کی کارکردگی بڑھانے کیلئے اصلاحات کی ضرورت ہے ۔