گندم کی براہ راست برآمد فلورملز انڈسٹری کو ڈبونے کے مترادف


پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین(پنجاب) لیاقت علی خان کہا ہے کہ ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے ، اربوں روپے کے قومی سرمائے سے لگائی گئی فلور ملنگ انڈسٹری شدید مالی بحران سے دوچار ہے،60فیصد سے زائد فلور ملنگ انڈسٹری پر تالے لگے ہوئے ہیں جبکہ حکومت براہ راست گندم ایکسپورٹ کرتی رہی ہے ،انہوں نے کہاکہ حکومت برآمدی گندم میں فلور ملز مالکان کو نظر انداز نہ کرے بلکہ عرصہ دراز سے بند پڑی فلور ملوں کو چلانے کیلئے گندم کی مصنوعات ایکسپورٹ کرنے کیلئے30فیصد ویٹ پراڈکٹس کو شامل کیا جائے ، براہ راست گندم کی ایکسپورٹ کی اجازت دینا قومی سرمائے سے لگائی جانے والی اربو ں روپے کی انڈسٹری کو ڈبونے کا منصوبہ ہے جو کسی صورت برداشت نہ کیا جائے گا ۔ چوہدری افتخار احمد مٹو اور میاں ریاض اور نعیم بٹ نے کہا کہ حکومت برابری کی بنیاد پر 159 ڈالر پر سمندر اور زمینی راستے گندم اور گندم کی مصنوعات کی ایکسپورٹ کی اجازت دے ،تاکہ گندم کے ساتھ ساتھ ویلیوایڈڈ گندم کی مصنوعات کو دنیا بھر میں فروخت کیاجاسکے۔