وزارت صحت کی تمباکو پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز


 

نیشنل ہیلتھ، ریگولیشنز و کوآرڈینیشن نے حکومت کومالی سال 2018-19 کے بجٹ میں تمباکوکمپنیوں پرٹیکس بڑھانے کی تجویز دی جس کا مقصد قبل ازوقت اموات کو روکنا اور محاصل میں اضافہ شامل ہے۔

وزارت صحت کا موقف ہے کہ سگریٹ کی قیمت میں کمی کا نہ صرف تمباکوکمپنیاںسے فائدہ اٹھارہی ہیںبلکہ ادویہ سازکمپنیاں بھی تمباکونوشی کے مثاثرین سے پیسہ ہتھیا رہی ہیں۔رواں مالی سال کے بجٹ میں وزارت صحت نے ٹیکسوں میں اضافہ کرکے ذریعے سیگریٹ کی قیمتیں بڑھانے کی تجویزدی تھی لیکن مسلم لیگ ن کی حکومت نے فیڈرل ایکسائزڈیوٹی کا تیسرا درجے کا سلیپ متعارف کرتے ہوئے ٹیکسوں میں کمی کردی تھی۔اس اقدام سے نہ صرف تمباکو نوشی میں اضافہ ہوابلکہ ملک میں سگریٹ کی پیدوارمیں اضافہ ہوا۔

ایکسپریس ٹریبیون کودستیاب وزارت صحت کے نویدکامران کی طرف سے فیڈرل بورڈآف ریونیوکوبھیجے گئے خط کی کاپی کے مطابق2017-18کے بجٹ کی تیاری کے دوران وزارت نے تمام کمپنیوں کے سیگریٹ کے پیکٹ پریکساں ٹیکس بڑھانیکی تجویزایف بی آر، عالمی بنک، یونیورسٹی آف ٹورنٹو، انزہوپکنزیونیورسٹی، یونیورسٹی آف ایلینائس شیکاگو اوربیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے پاکستان میں تمباکوپرٹیکسوں کے بار ے میں مشترکہ تحقیقی جائزے کی بنیادکی تھی جس کے تحت سیگریٹ کے فی پیکٹ پر 44 روپے تک یکساں مخصوص ایکسائزٹیکس سے تمباکونوشی کرنیوالوں کی تعداد میں 13.2فیصدتک کمی جبکہ ٹیکس محاصل میں 39ارب 50کروڑتک اضافہ ہوسکتاہے تاہم یہ تجویزمسترد کردی گئی جس سے نہ صرف ریونیوکی مد میں 40ارب روپے کانقصان ہوابلکہ تمباکونوشی میں بھی اضافہ ہوا۔