شوگرملوں سے نکلنے والا مہلک مادہ عوام کی زندگی کیلئے خطرہ بن گیا


ضلع بدین سمیت اندرون سندھ کے علاقوں میں قائم شوگر ملوں میں ٹریٹمنٹ پلانٹ نہ لگانے اورانوائرمینٹل ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کے باعث شوگر ملوں سے نکلنے والا دھواں، گنے کی پھوک کے ذرات اور دیگر مہلک مادے عوام کی زندگی کیلئے خطرہ بن گئے ہیں اور شوگر ملوں کے گردونواح کے علاقوں میں رہائش پذیر عوام دمے ، کھانسی، اسکن سمیت خطرناک امراض کا شکار ہو رہے ہیں ،شوگر ملوں کا انتہائی زہریلا پانی سیم نالوں اور دیگر آبی گزرگاہوں میں اخراج کر نے کے باعث جہاں ایک طرف زرعی زمینیں بری طرح متاثر کررہا ہے وہیں پر اس زہریلے پانی سے مچھلیاں، جھینگے اور دیگر آبی حیات بھی متاثر ہورہے ہیں، شوگر ملوں کا کیمیکل زدہ پانی اخراج کر نے والے سیم نالوں کے ارد گرد رہائش پذیر آبادی تعفن کے باعث شدیدپریشانی کا شکار ہے ، سیم نالوں اور دیگر آبی گزر گاہوں میں انتہائی مہلک اور زہریلا کیمیکل زدہ پانی ڈرین کر نے کے باعث ماہی گیروں کا روزگار بھی ختم ہو تا جارہا ہے ، اس سلسلے میں کیے جانے والے سروے کے مطابق رواں کرشنگ سیزن کے دوران شوگر ملوں کے 24گھنٹے نکلنے والے دھویں، گنے کی پھوک کے اُڑنے والے باریک ذرات اور شوگر ملوں میں استعمال ہونے والے مہلک کیمیکل ملے پانی کے ایل بی او ڈی و دیگر سیم نالوں ا ور آبی ذخائرکے اخراج نے ہزاروں عوام کو براہ راست متاثر کیا ہے ،شوگر ملوں کی جانب سے انوائرمینٹل کوڈز پر عمل نہ کر نے کے باعث سیم نالوں کے ذریعے اخراج کیے جانے والے زہریلے پانی نے ضلع بدین اور اندرون سندھ کے دیگر اضلاع کی ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی بانجھ بنا دی ہے اور یہ زرعی زمین پیداواری صلاحیتوں سے محروم ہو گئی ہے ، نہری پانی کی شدید قلت کے باعث اندرون سندھ کے مویشی مالکان شوگر ملوں کے کیمیکل زدہ پانی کو صحت بخش سمجھ کر اپنے مویشیوں کو پلاتے ہیں جس کی وجہ سے مویشی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، ذیلی سیم نالوں اور ایل بی او ڈی کے ذریعے کیمیکل زدہ پانی سمندر میں مسلسل اخراج ہونے کے باعث ضلع بدین اور ٹھٹھہ کی حدود کا ساحلی علاقہ بھی بری طرح ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہو رہا ہے ،اس تمام صوتحال میں محکمہ انوائرمنٹ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے ،سپریم کورٹ کی جانب سے سندھ کے عوام کو مضر صحت پانی فراہم کر نے والے اداروں کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کر نے اور واٹر کمیشن کی کارروائیوں کے باوجود شوگر ملوں کیجانب سے ماحولیاتی آلودگی پھیلانے اور عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کے خلاف عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کیا ہے اور چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔