شوگر ملز مالکان،کاشتکاروں کے مسئلے کا حل نکالا جائے ،میاں زاہد


اختلافات کے باعث چینی کی پیداوار،مارکیٹ اور کاشتکار بھی متاثر ہو سکتے ہیں

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اوربزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین میاں زاہد حسین نے کہا کہ گنے کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ہی اس شعبے کے مسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے ،حکومت شوگر ملزمالکان اور کاشتکاروں کے مابین جاری کشمکش کا ایسا حل نکالے جو فریقین کیلئے قابلِ قبول ہو، فریقین کے مابین اختلافات کی وجہ سے جہاں چینی کی پیداواراور مارکیٹ متاثر ہو گی وہیں گنے کے لاکھوں کاشتکار بھی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے متاثر ہو سکتے ہیں،گزشتہ روز میاں زاہد حسین نے ایک بیان میں کہا کہ شوگر ملز مالکان چینی کی برآمد پر ایکسپورٹ سبسڈی میں اضافہ کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ پہلے سے موجود 5لاکھ ٹن چینی کے اسٹاک کے بوجھ سے آزاد ہوا جا سکے ،موجودہ وفاقی ایکسپورٹ سبسڈی دس روپے ستر پیسے فی کلوہے جسے شوگر مل مالکان انیس روپے فی کلو تک بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں،ملز مالکان کے مطابق اگر ایکسپورٹ سبسڈی میں اضافہ نہ کیا گیا تو وہ گنا 180 روپے من کے بجائے 125روپے من خریدنے پر مجبور ہونگے جو کسانوں کو منظور نہیں،دوسری طرف کاشتکار موجودہ صورتحال کو اپنے مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کرشنگ سے قبل اسکی سرکاری قیمت کے تعین کے اعلامیہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس صورتحال میں گنے کی کرشنگ رکی ہوئی ہے اور اگر گنے کی فصل نہ اٹھائی گئی تو گندم اور ربیع کی دیگر فصلوں کی کاشت تاخیر کا شکار ہو جائے گی جس سے مسائل جنم لینگے۔