باردانہ کا بوجھ فلور ملز پر ڈالنے سے آٹا مہنگا ہوا, ایکسپورٹ پالیسی کا اعلان کیا جائے: فلور ملز ایسوسی ایشن


خیبر پختونخوا اور سندھ میں بار دانہ کی قیمت انکی حکومت برداشت کرتی ہے ،چاروں صوبوں میں گندم کے یکساں نرخ مقرر کئے جائیں ،چیئر مین پفما کی صحافیوں سے گفتگو

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب نے رواں برس بار دانہ کی قیمت کی مد میں اضافی بوجھ صارفین اور فلور ملز مالکان پر ڈال دیا ہے جس کے باعث آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا، خیبر پختونخوا اور سندھ میں بار دانہ کی قیمت انکی حکومت برداشت کرتی ہے جبکہ پنجاب میں بھی پچھلے سال باردانہ کا بوجھ خود حکومت برداشت کر رہی تھی تاہم رواں سال پنجاب حکومت نے یہ بات بوجھ عوام اور فلور ملز مالکان پر ڈال دیا ہے ۔ گزشتہ روز اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پفما لیاقت علی خان ، گروپ لیڈر عاصم رضا ، میاں ریاض ، افتخار احمد مٹو ، سابق چیئرمین ریاض اﷲ خان نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں جب تک گندم موجود تھی اس وقت تک کم نرخوں پر عوام کو آٹا فراہم کر رہے تھے اب پرائیویٹ سیکٹر کی گندم تقریبا ً ختم ہو چکی ہے اور گندم کے نرخ حکومت کے مقرر کر دہ سرکاری نرخوں پر آچکے ہیں۔ فلور ملز ایسوسی ایشن نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ باردانہ کی قیمت کا اضافی بوجھ عوام پر نہ ڈالا جائے اور چاروں صوبوں میں گندم کے یکساں نرخ مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ گندم کے حوالے سے یکساں پالیسی رکھی جائے ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں لاکھوں ٹن فاضل گندم موجود ہے جس کے خراب ہونے سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہونے کا امکان ہے لہٰذا فاضل گندم کو فوری طور پر ایکسپورٹ کرنے کیلئے ایک سالہ ایکسپورٹ پالیسی کا اعلان کیا جائے ۔اگر حکومت نے فوری طور پرفاضل گندم کی ایکسپورٹ کیلئے عملی اقدامات نہ کئے تو بھارت افغانستان کی مارکیٹ پر اپنا قبضہ جما لے گا۔