بجلی , گیس نرخ کم,200ارب کے ریفینڈزدیے جائیں,اپٹما


وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات سے ایک دن قبل آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن(اپٹما) نے ٹیکسٹائل کی صنعت کے تحفظ اور برآمدات کے فروغ کیلئے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا، روپے کی قدر میں کمی کے بجائے صنعت کی پیداواری لاگت کم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے ، حکومت سے کہا ہے کہ 200 ارب روپے مالیت کے رکے ہوئے ریفنڈ فوری جاری کیے جائیں، بجلی کی قیمت 11روپے فی یونٹ سے کم کر کے 6روپے فی یونٹ تک لائی جائے ، گیس کی قیمت12روپے فی یونٹ سے کم کر کے 8 روپے یونٹ تک لائی جائے ، برآمدات کے فروغ کیلئے وزیر اعظم کے اعلان کردہ180ارب کے ٹیکسٹائل پیکیج کے 9 ماہ کے بقایاجات فوری ادا کیے جائیں۔ان خیالات کا اظہار اپٹما کے چیئرمین عامر فیاض نے اسلام آباد میں قائم کردہ سینٹرل آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر چیئرمین عامر فیاض نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پورے نہ کیے تو110ٹیکسٹائل ملیں پہلے ہی بند ہو چکی ہیں بقیہ 320 ٹیکسٹائل ملیں بھی بندکرنے پر مجبور ہوجائیں گے ، ڈیڑھ کروڑمزدوروں کے بے روزگار ہونے کے ساتھ پاکستان کو اس سال36ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو پورا کرنے کیلئے مجبوراً عالمی مالیاتی اداروں سے بھاری قرضے حاصل کرنا پڑیں گے جس سے ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھنے کے ساتھ معیشت عالمی مالیاتی اداروں کے ہاتھ گروی رکھنا پڑے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا برآمدات میں حصہ62فیصد ہے ، 15ملین افراد اس صنعت سے وابستہ ہیں، گزشتہ چار سال میں برآمدات25ارب ڈالر سے کم ہوکر 20 ارب ڈالر تک آ گئی ہیں لہٰذا تمام حکومتی ادارے ملک کی اس سب سے بڑی صنعت پر خصوصی توجہ دیں۔