ڈالر کی قدر میں کمی لائی جائے,اسٹیٹ بینک کی ایکسچینج کمپنیوں کو ہدایت


اسٹیٹ بینک نے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کرنسی ڈیلرز کو ڈالر کی فراہمی میں اضافے اور قدر نیچے لانے کی ہدایت کی ہے ،فاریکس ایسو سی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان ، دیگر ممبران اور ایکسچینج کمپنیز کے آفیشلز نے گزشتہ روز اسٹیٹ بینک کے ایکسچینج ڈائریکٹر عرفان علی شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کی جس میں ایکسچینج ڈائریکٹر نے ڈالر 107روپے کی سطح سے تجاوز کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ، انہوں نے کہا کہ فری مارکیٹ میں ڈالر کاریٹ بہت زیادہ بڑھ جانے سے ورکر ریمیٹنس میں کمی واقع ہوئی جبکہ اس ماہ 1290ملین ڈالر کی ورکر ریمیٹنس ہوئی ہے جو اس سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور فری مارکیٹ اور بینک ریٹ میں اس وقت صرف2فیصدکا فرق رہ گیا ہے ، اس کو کم کرکے ایک فیصدتک لیکر آئیں تاکہ آفیشل چینل سے زیادہ ڈالر ملک میں آئے ،اس موقع پرملک بوستان نے ایکسچینج ڈائریکٹر کو بتایا کہ اس وقت ملک میں سیاسی کشیدگی اور خاص طور پر وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار پرآمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں فرد جرم عائد ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں افواہوں کا زور ہے اور ڈالربڑھنے کا بہت شور ہے کیونکہ روپیہ کو ڈی ویلیو کرنے کے وہ سب سے بڑے مخالف ہیں اور وہ ہمیشہ پاکستانی روپیہ کو مضبو ط دیکھنا چاہتے ہیں ،ان پر دباؤ ہے کہ استعفیٰ دیں ، الیکٹرانک میڈیا پر معاشی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ حکومت بہت جلد روپیہ ڈی ویلیو کر دیگی ، اسکے علاوہ امریکا کے صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ پاکستان نے اگر ہماری بات نہ مانی تو امداد اور معاشی پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں اس وجہ سے پبلک اپنے روپیہ کو ڈالر میں تبدیل کر رہی ہے ، گزشتہ 3ماہ سے ایکسچینج کمپنیوں سے تقریباً 80کروڑ ڈالر خریدے گئے ہیں، اس وقت جس کے پاس ایک لاکھ روپے ہیں وہ ڈالر خریدنا چاہتا ہے ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر عرفا ن علی شاہ نے کہا کہ میڈیا پر روپیہ ڈی ویلیو کرنے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔