گندم کی فاضل پیداوار سے سالانہ اربوں کا نقصان ہو رہا ہے ، عاطف اکرام


گندم کو بر آمد کرنے کی کوششیں ناکام،پیداوار محدود کی جائے ،سابق صدر اسلام آباد چیمبر

اسلام آباد چیمبرکے سابق صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ حکومت کئی سال سے اضافی گندم کو ٹھکانے لگانے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہے جس سے سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ۔ فاضل گندم کو بر آمد کرنے کی کوششیں بھی ناکام ہو گئی ہیں کیونکہ اسکی قیمت بین الاقوامی منڈی میں دستیاب گندم سے دگنی ہے ،ملکی تاریخ میں پہلی بار گندم کے ا سٹاک 90 لاکھ ٹن تک پہنچ گئے ہیں جس سے حکومت کا نقصان بڑھے گا اس لیے اسکی پیداوار محدود کی جائے ،گزشتہ روزعاطف اکرام شیخ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں گندم کی سالانہ کھپت دو کروڑ 30لاکھ ٹن سالانہ ہے جبکہ پیداوار ڈھائی کروڑ ٹن سے زیادہ ہے جبکہ گزشتہ کئی سال سے اچھی فصل ہونے کی وجہ سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے پاس موجوداسٹاک بڑھ گئے ہیں جنہیں سنبھالنے پر سالانہ اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ اس وقت بھی نصف گندم کھلے آسمان تلے پڑی ہوئی ہے جو موسم کے رحم و کرم پر ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگلی فصل بھی سرپلس پیداوار کا سبب بنے گی جس سے اضافی اسٹاک حکومت کے مسائل ، خراجات اور گندم کا ضیاں مزید بڑھ جائے گا،حکومت نے بھاری سبسڈی دے کر کچھ گندم برآمد کرائی تھی مگر برآمد کنندگان کو اسکے ریفنڈ ادا نہیں کیے گئے ہیں جس سے برآمدات میں مزید مشکلات حائل ہو گئی ہیں اسلئے حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے نئی ایکسپورٹ پالیسی بنائے اور گندم کی پیداوار کو محدود کرنے کیلئے کاشتکاروں کو دوسری فصلوں کی طرف راغب بھی کیا جائے ۔