چینی کی قلت،لاہوریوں کے منہ میں کڑواہٹ بھرنے لگی


چینی کی قلت لاہوریوں کے منہ کے ذائقہ میں کڑواہٹ بھرنے لگی،ہول سیل کی مارکیٹ اکبری منڈی میں چینی کے روزانہ آنے والے 100 ٹرکوں کی تعداد کم ہوکر 20 سے 25 کے درمیان رہ گئی،چینی کا بحران چند روز پہلے شروع ہوا جب شوگرملز مالکان نے چینی کے نرخوں میں کمی آنے کے بعد ملوں سے اِس کی سپلائی روک دی تھی، یہ سپلائی پہلے چار دن کیلئے روکی گئی لیکن جب یہ دیکھا گیا کہ اِس پر ذمہ دارحکومتی اداروں کی طرف سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تو ملوں سے چینی کی سپلائی مزید دنوں کیلئے روک دی گئی جس کے نتیجے میں قلت پیدا ہوئی اوراب ہول سیل میں چینی کے نرخ 63 اور پرچون میں 66 روپے فی کلو تک پہنچ گئے ہیں جبکہ پرچون میں چینی کے سرکاری نرخ 52 روپے کلو مقرر ہیں۔اس وقت مارکیٹ میں آنے والی چینی ملوں سے نہیں بلکہ پرائیویٹ انویسٹرز کی طرف سے آرہی ہے ۔ مارکیٹ فورسز کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پرائیویٹ انویسٹرز کی طرف سے سٹاک کی گئی چینی ختم ہونے کے بعد اِس کا حصول بہت مشکل ہوسکتا ہے ۔ایک اندازے کے مطابق اکبری منڈی میں تقریباً 45 لاکھ کلو چینی سٹاک کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن اِس وقت بیشتر بیوپاریوں کے گودام خالی ہوچکے ہیں ۔ شوگرملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید کیانی نے کہا ہے کہ ملوں کی طرف سے چینی کی سپلائی روکے جانے کا تاثر بالکل غلط ہے۔ اور ملوں سے چینی کی سپلائی بدستور جاری ہے ۔اکبر منڈی کے تاجر رہنمائضیاالدین بٹ نے بتایا کہ سپلائی بحال نہیں ہوئی تو ہول سیل بھی متاثر ہوجائے گی۔