کپاس کے پیداواری ہدف میں 14.40 لاکھ بیلز کی کمی


کاٹن کراپ اسسٹمنٹ کمیٹی نے ایک کروڑ 26 لاکھ بیلز کانیا ہدف مقرر کردیا، سیکٹر میں تشویش کی لہردوڑ گئی

پنجاب اور سندھ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رقبے پر کپاس کاشت ہونے کے دعوؤں کے باوجود کاٹن کراپ اسسٹمنٹ کمیٹی (سی سی اے سی) نے گزشتہ روز اپنے پہلے ہی اجلاس میں رواں سال کپاس کا مجموعی ملکی پیداواری ہدف 14 لاکھ 40 ہزار بیلز کم کر کے نیا پیداواری ہدف ایک کروڑ 26 لاکھ بیلز مختص کر دیا جس سے کاٹن سیکٹر میں تشویش کی لہردوڑ گئی ہے ۔چیئر مین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ پنجاب گورنمنٹ نے کاٹن یئر 2016-17 کے دوران پنجاب میں 43 لاکھ 88 ہزار ایکڑ رقبے پر کاشت ہونے والی کپاس کے مقابلے میں رواں سال صوبے بھر میں 53 لاکھ 6 ہزار ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو کہ ماہرین کے مقابلے میں قطعی طور پر غیر حقیقی تھا جس کی بنیاد پر فیڈرل کاٹن کمیٹی نے پاکستان میں رواں سال کپاس کا پیداواری ہدف ایک کروڑ 44 لاکھ بیلز مختص کیا تھا جس میں سے پنجاب میں ایک کروڑ ،سندھ میں 40 لاکھ ،بلوچستان میں 38 ہزار اور کے پی کے میں 2ہزار بیلز شامل تھیں ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز سی سی اے سی کے اجلاس میں پنجاب میں رواں سال کیلئے کپاس کا نیا پیداواری ہدف ریکارڈ 12 لاکھ بیلز کم کر کے 88 لاکھ بیلز ،سندھ میں 3 لاکھ بیلز کم کر کے 37 لاکھ بیلز جبکہ کے پی کے اور بلوچستان میں 60 ہزار بیلز بڑھا کر ایک لاکھ بیلز مختص کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں رواں سال حکومت کی جانب سے 15 اپریل سے قبل کپاس کاشت کرنے پر پابندی اور نہری پانی کی شدید کمی کے باعث پچھلے سال کے مقابلے میں کم رقبے پر کپاس کاشت ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں ،اس لیے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سی سی اے سی کو اپنے آئندہ اجلاس میں کپاس کے مجموعی ملکی پیداواری ہدف میں مزید کمی کرنا پڑے گی ۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل کاٹن کمیٹی کی جانب سے ہر سال کپا س کا غیر حقیقی مجموعی ملکی پیداواری ہدف مختص کیا جاتا ہے جو پچھلے کئی سالوں سے آج حاصل نہیں کیا جا سکا جس کے باعث کاٹن سیکٹر کو ہر سال کپاس کی درآمد پر اپنی حکمت عملی ترتیب دینے میں غیر معمولی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اس لیے فیڈرل کاٹن کمیٹی کو چاہیے کہ وہ ہر سال کپاس کا حقیقت پسندانہ پیداواری ہدف مختص کرے تاکہ کاٹن سیکٹر کو اپنی حکمت عملی ترتیب دینے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔