حکومت نے خود چینی کی قیمت 60روپے کلو مقرر کی : شوگر ملز


وزیر خزانہ کا بیان افسوسناک ،چینی کی قیمت بمعہ سیلزٹیکس 66روپے کلو بنتی ہے چینی کی موجودہ قیمتوں پر سیلز ٹیکس کی ادائیگی ناممکن ،جامع پالیسی وضع کی جائے

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی کی قیمتوں بارے تحقیقات کی ہدایات کے بارے میں وفاقی وزیر خزانہ کے بیان پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فاضل چینی، ایکسپورٹ کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے چینی کی قیمتیں 45سے 46روپے فی کلو کی انتہائی نچلی تک گرگئی تھیں ۔انہوں نے کہا کہ چینی کی ان قیمتوں کو مارکیٹ کے تعین کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا،درحقیقت وفاقی حکومت نے سیلز ٹیکس کی جانچ کے لیے خود ہی 60روپے فی کلو کی قیمت مقرر کر رکھی ہے ۔ جس کے نتیجے میں چینی کی قیمت بمعہ سیلزٹیکس 66روپے فی کلو بنتی ہے ۔ وفاقی حکومت نے ہٹ دھرمی کا ثبوت دیتے ہوئے صرف 3لاکھ ٹن چینی کی ایکسپورٹ کی اجازت دی جس کا آج تک نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ترجمان نے کہا کہ منفی بیان دینے سے پہلے وفاقی وزیر خزانہ کو چینی کی پیداواری لاگت بھی پوچھنی چاہیے تھی۔ چینی کی موجودہ قیمتوں پر سٹاک کو بینکوں سے چھڑواکر فروخت کرنااور سیلزٹیکس کی ادائیگی کرنا ناممکن ہے ۔حکومت ایکسپورٹ کی جامع پالیسی وضع کرے