جدید زرعی سفارشات پر عمل کرکے کماد کی 2 ہزار من فی ایکڑ پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے، محکمہ زراعت


محکمہ زراعت کے ترجمان نے کہاہے کہ کماد کے کاشتکار جدید زرعی سفارشات پر عمل کرکے اوسط 607 من فی ایکڑ کی بجائے 1500 سے 2 ہزار من فی ایکڑ پیداوار حاصل کرسکتے ہیںجس کیلئے انہیں پیداوار پر اثر انداز ہونے والے عوامل سے بچائو کے ساتھ ساتھ فصل پر حملہ آور ہونے والے کیڑوں پر بھی کنٹرول یقینی بناناہوگا۔ انہو ںنے بتایاکہ حملہ آور کیڑوں پر اگر بروقت کنٹرول کرتے ہوئے ان کا تدارک نہ کیا جائے تو یہ پیداوار میں بہت بڑی کمی کا سبب بنتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ کماد کے ان ضرر رساں کیڑوں میں دیمک، جڑ، تنے اور چوٹی کے گڑوویں/بورر، گرداسپوری بورر، گھوڑا مکھی، سفید مکھی اور مائٹس شامل ہیں۔ انہوںنے کہا کہ دیمک کے حملہ سے بچائواور سیاہ بگ کے تدارک کیلئے کھیت کی بروقت آبپاشی کی جائے اور فصل کو پانی کی کمی نہ آنے دی جائے۔انہوں نے کہا کہ بوررز کی سنڈیوں کے حملہ کے تدارک کیلئے کاشتکار ٹرائیکو گراما اور کرائی سوپرلا جیسے مفید کیڑوں کے کارڈز لگائیںجومحکمہ زراعت یا شوگر ملز کی لیبارٹریوں سے دستیاب ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کماد کی فصل پرسفید مکھی کے طبعی انسداد کیلئے گنے کی اونچائی چھ فٹ ہونے سے پہلے دانے دار زہر استعمال کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جوئوں کے انسداد کیلئے ضروری ہے کہ فصل کو بروقت پانی لگائیں اور کھیتوں کو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھنے سمیت حملہ شدہ پتوں کو ضائع کر دیں۔انہوںنے کہاکہ کاشتکار مزید معلومات و رہنمائی اور مشاورت کیلئے محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کی خدمات سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔